بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

حالتِ حمل میں روزہ


سوال

میں حاملہ ہوں نواں مہینہ ہے اور آگے رمضان ہے، میری کیفیت یہ ہے کہ پانچ  چھ  گھنٹے تک اگر کچھ نا کھاؤں تو چکر اور ابکائیاں شروع ہوجاتی ہیں تو اس صورت میں روزے چھوڑ سکتی ہوں؟ ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ رکھ سکو تو  رکھ لو اوراور شرع میں ہے کہ اگر ماں یا بچے کی ہلاکت کا خدشہ ہو تو روزے چھوڑ دو؟

جواب

اگرروزہ رکھنے سےخود اپنی یا پیٹ میں موجود بچہ کی جان کاخدشہ ہو تو حاملہ عورت کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے، تاہم جتنے روزے چھوڑیں گی بعد میں اتنے روزے قضا کرنے ہوں گے۔ قابلِ  برداشت تکلیف کی وجہ سے روزہ نہ چھوڑا جائے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108201786

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے