بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 محرم 1448ھ 26 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

حالت ِحمل میں طلاق کا حکم


سوال

حالتِ حمل میں طلاق دینے کا کیا حکم ہے ؟

جواب

حالتِ  حمل میں بھی طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے،  البتہ   عدت تب ختم ہوگی جب   بچے  کی پیدائش  ہوگی۔

قرآن مجید میں ہے :

"وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ"

(سورة الطلاق )

الدر المختار میں ہے :

"(و حلّ طلاقهن) أي الآيسة و الصغيرة و الحامل."

(کتاب الطلاق،رکن الطلاق،ج:3،ص:232،سعید)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144406101190

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں