بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1444ھ 08 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

حالتِ حیض میں قرآن پڑھانا


سوال

کیا معلّمہ حالتِ  حیض میں  قرآنِ  پاک کا ترجمہ پڑھا سکتی ہے یا نہیں ؟جب کہ بچیوں کو سمجھانے کے لیے ترجمہ کے ساتھ آیت کا پڑھنا ضروری ہوتا ہے،  اگر نہیں تو کوئی مناسب طریقہ بتادیں۔

جواب

دورانِ حیض (ماہ واری) عورت کے لیے قرآنِ کریم کی تلاوت منع ہے، البتہ تعلیمی ضرورت کے تحت   شرعًا اس بات کی اجازت ہے کہ  معلمہ طالبات کو پڑھائے یا خود طالبہ پڑھے تو  کلمہ کلمہ، لفظ  لفظ الگ الگ کرکے پڑھے، یعنی ہجے  کرکے  پڑھے، مثلًا: الحمد ... للّٰه ... ربّ ... العالمین، مخصوص اَیّام میں خواتین کے لیے ہجے کرکے پڑھنا جائز ہے، لیکن مکمل آیت کا پڑھنا جائز نہیں،   البتہ آیت  پڑھے بغیر  قرآنِ کریم کا صرف بامحاورہ ترجمہ  پڑھانا  جائزہے،  یہ حکم  میں  پڑھانے والی اور پڑھنے والی دونوں کے لیے  ہے۔

یہ یاد رہے کہ قرآنِ مجید کو  براہِ راست بغیر غلاف کے ہاتھ لگانا اس حالت میں جائز نہیں، ہاں قاعدہ  اور   نماز کی کتاب وغیرہ کو  ہاتھ  لگایا جاسکتا ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وَ إِذَا حَاضَتْ الْمُعَلِّمَةُ فَيَنْبَغِي لَهَا أَنْ تُعَلِّمَ الصِّبْيَانَ كَلِمَةً كَلِمَةً وَتَقْطَعُ بَيْنَ الْكَلِمَتَيْنِ، وَلَايُكْرَهُ لَهَا التَّهَجِّي بِالْقُرْآنِ. كَذَا فِي الْمُحِيطِ".

(الْفَصْلُ الرَّابِعُ فِي أَحْكَامِ الْحَيْضِ وَالنِّفَاسِ وَالِاسْتِحَاضَةِ،الْأَحْكَامُ الَّتِي يَشْتَرِكُ فِيهَا الْحَيْضُ وَالنِّفَاسُ ثَمَانِيَةٌ، (١/ ٣٨)

فتاوی شامی میں ہے:

" (و قراءة قرآن ) أي و لو دون آية من المركبات لا المفردات؛ لأنه جوز للحائض المعلمة تعليمه كلمةً كلمةً، كما قدمناه وكالقرآن التوراة والإنجيل والزبور ... (ومسه) أي القرآن ولو في لوح أو درهم أو حائط، لكن لا يمنع إلا من مس المكتوب، بخلاف المصحف؛ فلايجوز مس الجلد وموضع البياض منه، وقال بعضهم: يجوز، وهذا أقرب إلى القياس، والمنع أقرب إلى التعظيم، كما في البحر، أي والصحيح المنع كما نذكره، ومثل القرآن سائر الكتب السماوية كما قدمناه عن القهستاني وغيره‘‘.

(1/ 293، ط: سعید)

 فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144205200462

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں