بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1444ھ 08 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

حالت حیض میں نماز ، روزہ کا کیا حکم ہے ؟


سوال

حالت حیض میں نماز ، روزہ کا  کیا حکم ہے ؟

جواب

حالتِ حیض میں عورت کے لیے نماز اور روزہ رکھنے کی اجازت نہیں ہے، تاہم حیض کے ایام گزر جانے کے بعد وہ روزوں کی قضاء کرے گی، جب کہ  ایام حیض کی نمازیں  معاف ہیں، یعنی  بعد میں ان کی قضاء نہیں کرے گی۔

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"وأما الأحكام التي تتعلق بالحيض عشرة أو أكثر. منها أن الحائض لا تصوم ولا تصلي لقوله - صلى الله عليه وسلم - «تقعد إحداهن شطر عمرها لا تصوم ولا تصلي» يعني زمان الحيض. ومنها أنه يلزمها قضاء الصوم دون الصلاة لما روي أن امرأة قالت: لعائشة - رضي الله عنها - ما بال إحدانا تقضي صيام أيام الحيض ولا تقضي الصلاة فقالت: أحرورية أنت كنا على عهد رسول الله - صلى الله عليه وسلم - نقضي صيام أيام الحيض، ولا نقضي الصلاة أنكرت عليها السؤال لشهرة الحال ونسبتها إلى حروراء وهي قرية كان أهلها يسألون سؤال التعنت في الدين."

(كتاب الحيض و النفاس، فصل:الأحكام التي تتعلق بالحيض، ج:3، ص:152، ط: دار المعرفة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144402100229

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں