بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ذو الحجة 1442ھ 04 اگست 2021 ء

دارالافتاء

 

حالتِ احرام میں گھر جانا اور غسل کرنا


سوال

میں جدہ کا رہائشی ہوں اور عمرہ کی نیت سے گھر سے احرام باندھ کےدوپہر 12 بجے مکہ گیا، لیکن مسجد حرام کے دروازہ سے واپس بھیج دیا گیا کیوں کہ میرے عمرےکا ٹائم رات کے 12 بجے شروع ہو رہا تھا، چوں کہ  رات ہونے میں ابھی کافی ٹائم تھا تو میں احرام کی حالت میں ہی حدودِ حرم سے گزر کر واپس جدہ اپنے گھر آ گیا، رات کو میں نے دوبارہ اپنے ٹائم پہ آ کر عمرہ ادا کیا اور گھر سے چلنے سے پہلے احرام کی چادریں تبدیل کیں اور سادہ پانی سے غسل کیا زیادہ گرمی کی وجہ سے،  میرا سوال یہ ہے کہ کیا احرام کی حالت میں میرا حرم کی حدود سے باہر آنے سے کوئی دم تو نہیں پڑا جب کہ میں جدہ کا رہائشی ہونے کی وجہ سے میقات سے باہر بھی نہیں گیا؟  کیا میرا گھر سے سادہ غسل کرنا گرمی کی وجہ سے اور احرام کی چادریں تبدیل کرنے سے کوئی مسئلہ تو نہیں ؟ 

جواب

بصورتِ مسئولہ احرام کی حالت میں سائل کے گھر جانے اور سادہ پانی سے غسل کرنے کی وجہ سے دم یا صدقہ لازم نہیں ہوا۔

فقہاءِ  کرام نے احرام کی جو پابندیاں ذکر کی ہیں، وہ یہ ہیں:

  • محرم شکار نہیں کر سکتا۔
  • شکاری کی اشارے سے مدد نہیں کر سکتا۔
  •   سلا ہوا  لباس نہیں پہن سکتا۔
  • ٹوپی، عمامہ، موزے  اور خفین نہیں پہن سکتا۔
  • سر اور چہرے کو ڈھانک نہیں سکتا۔
  • اپنے جسم کے بال صاف نہیں کر سکتا۔
  • ناخن نہیں کاٹ سکتا۔
  • خوشبو نہیں لگا سکتا۔
  • مہندی نہیں لگا سکتا۔
  • بیوی کو بوسہ نہیں دے سکتا، شہوت سے چھونا بھی ممنوع ہے۔
  • حرم کے درخت اور پودے نہیں کاٹ سکتا۔

مذکورہ بالا افعال کی وجہ سے محرم پر دم یا صدقہ لازم ہوتا ہے، وقت گزارنے کے لیے گھر جانا اور سادے پانی سے غسل کرنا چونکہ ممنوعاتِ احرام میں سے نہیں، اس لیے اس کی وجہ سے کوئی دم وغیرہ لازم نہیں ہو گا۔

الفتاوى الهندية (1/ 224):

"[الباب الرابع فيما يفعله المحرم بعد الإحرام]

(الباب الرابع فيما يفعله المحرم بعد الإحرام) ، وإذا أحرم يتقي ما نهى الله تعالى عنه من الرفث والفسوق والجدال، والرفث الجماع والفسوق هي المعاصي والخروج عن طاعة الله تعالى، والجدال هي المخاصمة مع رفقائه، هكذا في محيط السرخسي ولا يقتل صيدا كذا في الهداية ويتقي تعرض الصيد بأخذ أو إشارة أو دلالة أو إعانة ولا يلبس مخيطا قميصا أو قباء أو سراويل أو عمامة أو قلنسوة أو خفا إلا أن يقطع الخف أسفل من الكعبين، كذا في فتاوى قاضي خان والكعب هنا المفصل الذي في وسط القدم عند معقد الشراك كذا في التبيين ويتقي ستر الرأس والوجه ولا يغطي فاه ولا ذقنه ولا عارضه، ولا بأس بأن يضع يده على أنفه كذا في البحر الرائق.

ولا يلبس الجوربين كما لا يلبس الخفين كذا في المحيط والحرام من لبس المخيط هو اللبس المعتاد حتى لو اتزر بالقميص والسراويل أو وضع القباء على كتفه وأدخل منكبيه ولا يدخل يديه لا بأس به، كذا في فتاوى قاضي خان ولا بأس بشد الهميان أو المنطقة للمحرم سواء كان في الهميان نفقته أو نفقة غيره، وسواء كان شد المنطقة بالإبريسم أو بالسيور هكذا في البدائع والسراج الوهاج ولا يشد طيلسانه بالزر أو بالخلال لأنه يشبه المخيط ولا يكره لبس الخز والقصب إذا لم يكن مخيطا كذا في فتاوى قاضي خان ولايلبس ثوبا مصبوغا بعصفر أو زعفران أو غيره إلا أن يكون غسيلا بحيث لا ينفض فلا بأس به قيل في النفض أن لا يتناثر صبغه على البدن، وقيل لا تفوح رائحته، وهو الأصح كذا في محيط السرخسي.

ولايحلق رأسه ولا شعر بدنه ويستوي في ذلك الحلق بالموسى والنورة، والقلع بالأسنان، وغيره ولا يقص من لحيته، كذا في السراج الوهاج ولا يأخذ من ظفره شيئا كذا في محيط السرخسي ولا يمس طيبا بيده، وإن كان لا يقصد به التطيب، كذا في فتاوى قاضي خان ولا يدهن كذا في الهداية وليس له أن يختضب بالحناء لأنه طيب كذا في الجوهرة النيرة ولا بأس بأن يكتحل بكحل ليس فيه طيب ولا يقبل المحرم امرأته، ولا يمسها بشهوة، كذا في فتاوى قاضي خان ولا يغسل رأسه ولا لحيته بالخطمي ولا يحك رأسه، وإذا حك فليرفق بحكه خوفا من تناثر الشعر وقتل القمل وهو ممنوع، وإن لم يكن على رأسه شعر أو أذى فلا بأس بالحك الشديد، كذا في محيط السرخسي.

ولا بأس بأن يستظل بالبيت والمحمل كذا في الكافي ولا بأس بأن يستظل بالفسطاط، كذا في فتاوى قاضي خان وكذا لو دخل تحت ستر الكعبة حتى غطاه والستر لا يصيب رأسه ولا وجهه لا بأس به فإن كان يصيب رأسه أو وجهه كره ذلك لمكان التغطية، كذا في المحيط ولا بأس للمحرم أن يحتجم أو يفتصد أو يجبر الكسر أو يختتن، كذا في فتاوى قاضي خان ولا يقطع شجر الحرم غير الإذخر وكذلك الحلال، كذا في شرح الطحاوي."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144210201240

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں