بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

حالت احرام میں بال ٹوٹنے پر دم کا حکم


سوال

 سوال یہ ہے کہ کتنے بال ٹوٹنے پر دم واجب ہوتا ہے مردوں کے لیے؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر  بال محرم کے فعل کے بغیر خود بخود  گر جائیں  تو کچھ لازم نہیں،اور اگر بال محرم کے ایسے فعل سے گریں جس کا  اس کو شریعت  کی  جانب سے حکم دیا گیا ہو ، جیسے نماز کے لئے وضو کرنے کاحکم دیا گیا ہے اور وضو کے دوران بال ٹوٹ جائیں   تو تین  بال گر جائیں تو ایک مٹھی گندم صدقہ کرنا ہو گا ۔

مناسك (ملاعلي قاری ) میں ہے:

"لا یخفی  أ ن الشعر اذا سقط بنفسه لامحذور فيه ولا محظور لاحتمال قلعه قبل احرامه  وسقوطه بغير قلعه."

(167،باب الجنایات ،مطبعۃ الترقی  الماجدیہ بمکۃ)

غنیة الناسک  ميں هے :

"اما اذا سقط بفعل المامور به کالوضوء، ففی ثلاث شعرات کف واحدۃ من طعام."

 (256 ط ادارۃ القران)

فتاوی  ہندیہ میں ہے :

"وكذلك إذا حلق ‌ربع ‌رأسه أو ثلثه يجب عليه الدم ولو حلق دون الربع فعليه الصدقة كذا في شرح الطحاوي.وإذا حلق ربع لحيته فصاعدا فعليه دم، وإن كان أقل من الربع فصدقة كذا في السراج الوهاج."

(243/1،ط:دارالفكر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144310101172

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں