بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ذو الحجة 1443ھ 03 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

حرام اور حلال جانور کی جفتی سے پیدا ہونے والے بچے کا حکم


سوال

جانوروں میں مختلف نسلوں کا آپس میں میلان کا سلسلہ شروع ہوچکاہے،  اب یہ اپنی  نسل تک ہی محدود نہ رہا، بلکہ مختلف نسلوں میں کیا جانے لگا، جیسے بھیڑ اور خنزیر میں، اگر ان کے درمیان جفتی کرائی جائے تو ان نسلوں میں سے جو حرام قطعی ہوں ان سےنکلنے    والے نسل کا گوشت کھانا کیسا ہیں؟نیز یہ فعل کرنا کیسا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جانوروں  کی حلت اور حرمت میں ماں کا اعتبار ہوتا ہے، اگرماں  حلال ہو، تو اس سے پیدا ہونے والا بچہ بھی حلال ہوگا، چاہے کسی بھی حرام جانور کی جفتی کرنے سے بچہ پیدا ہوا ہو۔

باقی دوسرے جنس  سے جفتی کرانے کا حکم یہ ہے کہ اگر کمزور جانور کی جفتی قوی جانور سے کرائی جائے اور دونوں حلال ہوں تو شرعا یہ جائز ہے اور اگر قوی جانور کی جفتی کمزور  جانور سے کرائی جائے  یا حرام جانور کی جفتی حلال جانور سے کرائی جائے تو بعض فقہاء کرام کے نزدیک ایسا کرنا مکروہ ہے، جس سے بچنا چاہئے۔

در مع الرد  میں ہے:

"(والولد) ما دام جنينا (يتبع الأم) ولو بهيمة فيكون لصاحب الأنثى، ويؤكل ويضحى به لو أمه كذلك

و في الرد : (قوله لو أمه كذلك) أي لو كانت أمه مما يؤكل ويضحى بها والمراد أنه يأخذ حكم أمه ولا يزول عنه بعد الولادة كما يأخذ."

 (كتاب العتق،3/ 653 ط:سعيد)

در مختار میں ہے:

"ولا عبرة بغلبة الشبه لتصريحهم بحل أكل ذئب ولدته شاة اعتبارا للأم."

 (كتاب الطھارة، باب المياه،فصل في البئر،1/ 225،ط:سعيد)

البحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے:

"قال - رحمه الله - (وإنزاء الحمير على الخيل) لأنه - عليه الصلاة والسلام - «ركب البغل واقتناه» ولو حرم لما فعل ولأن فيه فتح بابه وما ورد فيه من النهي كان لأجل تكثير الخيل ولا يخفى أن الدليل لا يفيد المدعى لأن غايته أن يفيد جواز الركوب ولا يلزم منه جواز الإنزاء والجواب لما كان هذا الفعل في زمنه ظاهرا و الظاهر أنه بلغه ولم ينه عنه دل على الجواز."

(كتاب الكراهية، فصل في البيع،8/ 234،ط:دار الكتاب الإسلامي)

مرقاۃ المفاتیح  میں ہے:

"قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: إنما يفعل ذلك الذين لا يعلمون) : أي إن إنزاء الفرس على الفرس خير من ذلك لما ذكر من المنافع: أولا يعلمون أحكام الشريعة، ولا يهتدون إلى ما هو أولى لهم وأنفع سبيلا. قال الطيبي، قوله: لا يعلمون مطلق يحتمل أن يقدر مفعوله بدلالة الحديث السابق ; أي: لا يعلمون كراهيته وعلتها كما سبق."

 (كتاب الجهاد ، باب إعداد ألة الجهاد ،6/ 2508،ط: دار الفكر، بيروت)

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیہ  میں ہے:

"الإنزاء الذي لا يضر - كالإنزاء على مثله أو نحوه أو مقاربه - جائز.... أما إذا كان يضر - كإنزاء الحمير على الخيل - فإن من الفقهاء من كرهه، أخذا بحديث علي- رضي الله عنه - قال: أهديت لرسول الله صلى الله عليه وسلم بغلة فركبها، فقلت: لو حملنا الحمير على الخيل فكانت لنا مثل هذه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنما يفعل ذلك الذين لا يعلمون . وقالوا: وسبب النهي أنه سبب لقلة الخيل وضعفها."

(حرف الألف، الإنزاء، 6 /330 ط:دار السلاسل)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144307102421

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں