بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

حج مین خواتین کے لیے سجدہ کرنے کا کوئی الگ طریقہ نہیں ہے


سوال

 کیا حج میں عورتیں مردوں کی طرح سجدہ کریں گی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں عورتوں کے سجدہ کرنے کے طریقہ میں حج اور غیرِ حج کاکوئی فرق نہیں ہےیعنی  خواتین  جس طرح عام حالات میں سجدہ کرتی ہیں اسی طرح حج میں بھی سجدہ کریں گی۔

"رد المحتار علی الدر المختار"میں ہے:

"(والمرأة تنخفض) فلا تبدي عضديها (وتلصق بطنها بفخذيها) لأنه أستر."

(ص:٥٠٤،ج:١،کتاب الصلاۃ،فصل في بيان تأليف الصلاة إلى انتهائها،ط:ایج ایم سعید)

"الفتاوي الهندية"میں ہے:

"والمرأة لا تجافي في ركوعها وسجودها وتقعد على رجليها وفي السجدة تفترش بطنها على فخذيها كذا في الخلاصة."

(ص:٧٥،ج:١،کتاب الصلاۃ،الباب الرابع،الفصل الثالث،ط:دار الفکر،بیروت)

"بدائع الصنائع"ميں ہے:

"وهذا في حق الرجل فأما المرأة فينبغي أن تفترش ذراعيها وتنخفض ولا تنتصب كانتصاب الرجل وتلزق بطنها بفخذيها لأن ذلك أستر لها."

(ص:٢١٠،ج:١،کتاب الصلوة،فصل بيان حكم التكبير أيام التشريق،ط:دار الکتب العلمية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144501102755

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں