بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شعبان 1445ھ 23 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

حج كے ليے سونا بيچنے كا حكم


سوال

میری بیوی کا حج ہماری شادی کے سال پر فرض ہوگیا، ہماری شادی 2005ءمیں ہوئی، اور سونے کی شکل میں حج فرض ہوگیا 2005ء میں، 2007ء میں میں نے الحمد للہ حج کرلیا، مگر دو چھوٹے بچوں کی وجہ سے نہیں کرواسکا، اس سال بنا لیا ہے حج کا ۔

مگر 14، 17 لاکھ کا حج ہے جو میرے کاروبار سے نکالنے سے دو بندوں کے پینتیس لاکھ کا خرچہ ہے، اس سے بزنس ڈسٹرب ہوسکتا ہے، سونا بھی ہمارے پاس ہے اور بزنس کے لیے پیسے بھی ہے، اس صورت میں شریعت کیا حکم دیتی ہے؟ کیا ہم اور انتظار کریں حج کے لیے یااپنی کوئی چیز بیچ کر حج کرلیں؟ 

جواب

واضح رہے کہ حج فرض ہوجانے کے بعد بلا عذر شرعی اس کی ادائیگی میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے، چناں چہ سائل کے پاس اگر ضرورت کے خرچ سے زائد اتنا سونا اور رقم ہو جو اس کے اخراجات (جانے سے واپس ہونے تک) کے لیے کافی ہو، تو وہ بیچ کر حج ادا کرے، مزید انتظار نہ کرے۔ 

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن كان صاحب ‌ضيعة إن كان له من الضياع ما لو باع مقدار ما يكفي الزاد والراحلة ذاهبا وجائيا ونفقة عياله، وأولاده ويبقى له من الضيعة قدر ما يعيش بغلة الباقي يفترض عليه الحج."

(كتاب المناسك، الباب الأول في تفسير الحج وفرضيته ووقته وشرائطه وأركانه، 1/ 218، ط: دار الفکر بیروت)

وفیہ ایضا:

"وتفسير ملك الزاد والراحلة أن يكون له مال فاضل عن حاجته، وهو ما سوى مسكنه ولبسه وخدمه، وأثاث بيته قدر ما يبلغه إلى مكة ذاهبا وجائيا راكبا لا ماشيا وسوى ما يقضي به ديونه ويمسك لنفقة عياله، ومرمة مسكنه ونحوه إلى وقت انصرافه."

(كتاب المناسك، الباب الأول في تفسير الحج وفرضيته ووقته وشرائطه وأركانه، 1/ 216، ط: دار الفکر بیروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"(على الفور) في العام الأول عند الثاني وأصح الروايتين عن الإمام ومالك وأحمد فيفسق وترد شهادته بتأخيره أي سنينا۔۔۔

(قوله على الفور) هو الإتيان به في أول أوقات الإمكان."

(کتاب الحج، 2/ 456، ط: سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وهو فرض على الفور، وهو الأصح فلا يباح له التأخير بعد الإمكان إلى العام الثاني كذا في خزانة المفتين."

(کتاب المناسک، الباب الأول في تفسير الحج وفرضيته ووقته وشرائطه وأركانه، 1/ 216,ط: دار الفکر بیروت)

کفایت المفتی میں ہے:

" نمبر چھ کےجوا ب میں شق اول کا تو وہی جواب ہے جو سائل نے خود ہی لکھا ہے کہ حجِ فرض عامِ اول ہی میں ادا کرنا چاہیے اور باوجود استطاعت اپنے کسی اختیاری فعل سے اس میں تاخیر نہ کرنی چاہیے۔"

(کتاب المناسک، باب فرضیۃ الحض و شرائطہ و ارکانہ، جلد: 6، ص:412، ط: ادارۃ الفاروق کراچی)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144310101502

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں