بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 صفر 1443ھ 28 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

حج کے روزوں کی تعداد اور حکم


سوال

حج کے کتنے روزے رکھنا ہے؟

جواب

حج تمتع اور حج قران کرنے والے حاجی پر ایک سفر میں دو عبادتوں (حج اور عمرہ) کو جمع کرنے کی توفیق ملنے پر بطور شکرِ خداوندی   "دمِ شکر"   واجب ہوتا ہے، تاہم اگر دِم شکر کی استطاعت نہ ہو تو اس کے ذمے  دمِ شکر کے بجائے  دس روزے رکھنا واجب ہوں گے،  تین روزے  اشہر ِحج میں عمرہ کا احرام باندھنے کے بعد کسی بھی دن ایّامِ تشریق  (دس ذی الحجہ ) سے پہلے مکہ مکرمہ میں اور  سات روزے ایّامِ تشریق گزرنے کے بعد گھر میں یا چاہے تو   وہیں مکہ مکرمہ میں رکھنے ہوں گے، اور  مذکورہ روزے رکھنے میں اختیار ہوگا،  چاہے   پے در پے رکھے یا الگ الگ وقفہ کے ساتھ رکھے، تاہم مسلسل ایک  ساتھ رکھنا افضل ہے۔ 

ملحوظ رہے اگر  ان دس روزوں میں  سے  پہلے تین روزے ایّامِ تشریق سے پہلے نہیں رکھے گئے تو ہر حال میں پھر دم لازم ہوگا۔ نیز اس کے علاوہ حج کے الگ سے روزے نہیں ہوتے، یعنی حجِ اِفراد کرنے والے  پر یا حجِ قران یا حجِ تمتع  کرنے والے اس حاجی پر روزے نہیں ہیں جو دمِ شکر ادا کررہا ہو۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 532):

"(وذبح للقران) وهو دم شكر فيأكل منه (بعد رمي يوم النحر) لوجوب الترتيب (وإن عجز صام ثلاثة أيام) ولو متفرقة (آخرها يوم عرفة) ندبًا رجاء القدرة على الأصل، فبعده لايجزيه؛ فقول المنح كالبحر بيان للأفضل فيه كلام (وسبعة بعد) تمام أيام (حجه) فرضًا أو واجبًا، وهو بمعنى أيام التشريق (أين شاء) لكن أيام التشريق لا تجزيه - {وسبعة إذا رجعتم} [البقرة: 196]- أي فرغتم من أفعال الحج، فعم من وطنه منى أو اتخذها موطنا (فإن فاتت الثلاثة تعين الدم) 

 (قوله: وهو دم شكر) أي لما وفقه الله تعالى للجمع بين النسكين في أشهر الحج بسفر واحد لباب ... (قوله: وإن عجز) أي بأن لم يكن في ملكه فضل عن كفاف قدر ما يشتري به الدم، ولا هو: أي الدم في ملكه لباب، ومنه يعلم حد الغني المعتبر هنا، وفيه أقوال أخر، ويعلم من كلام الظهيرية أن المعتبر في اليسار والإعسار مكة لأنها مكان الدم كما نقله بعضهم عن المنسك الكبير للسندي(قوله: و لو متفرقة) أشار إلى عدم لزوم التتابع ومثله في السبعة، وإلى أن التتابع أفضل فيهما كما في اللباب (قوله: آخرها يوم عرفة) بأن يصوم السابع والثامن والتاسع."

(كتاب الحج، باب القران، ج:2، ص:533، ط:ايج ايم سعيد) 

فقط والله اعلم 


فتوی نمبر : 144212200752

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں