بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

حج کے لیے جمع کی گئی رقم پر زکات کے وجوب کا حکم


سوال

اگر کوئی  حج کے  لیے پیسے جمع کرکے رکھے اور اس پر سال گزر جائے تو کیا اس پر  زکات ہوگی ؟

جواب

حج کے لیے  جمع  کی گئی رقم اگر ابھی تک اپنے پاس ہے،  جمع نہیں کروائی گئی  تو سال گزرنے پر اس  رقم کی   زکات اداکرنا لازم ہوگا۔ 

اور اگر حج کے لیے رقم جمع کروادی گئی  تو اس کی دو صورتیں ہیں:(1) حکومت کی اسکیم ہے۔ (2) پرائیویٹ اسکیم ہے۔

حکومت کی اسکیم میں جو رقم جمع کرائی جاتی ہے  اس میں سے کچھ رقم پاسپورٹ اور ٹکٹ کے  ساتھ واپس ملتی ہے، اور پرائیوٹ اسکیم میں رقم واپس نہیں ملتی؛  لہذا سرکاری اسکیم میں رقم جمع کرانے اور نام آنے کے بعد  زکات  کا سال مکمل ہوگیا  تو روانگی سے پہلے جو رقم واپس ملے گی اس کی زکات ادا کرنا لازم ہوگا،  جو رقم حج کے اخراجات  کی مد میں  کٹ گئی اس کی  زکات لازم نہیں ہوگی۔ اور پرائیوٹ اسکیم میں چوں کہ کوئی رقم واپس نہیں کرتے  تو جمع  کرائی رقم پر  زکات بھی لازم نہیں ہوگی۔

اور اگر  سرکاری اسکیم میں  رقم جمع کرائی ہے  اور ابھی تک قرعہ اندازی نہیں ہوئی، یاقرعہ اندازی ہوگئی اور ناکام امیدواروں میں نام آگیا  تو بھی اس رقم پر زکات کا سال پورا ہونے پر زکات واجب ہوگی، خواہ وہ رقم ابھی تک بینک سے نہ نکلوائی ہو۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 262):

’’ فإذا كان معه دراهم أمسكها بنية صرفها إلى حاجته الأصلية لا تجب الزكاة فيها إذا حال الحول، وهي عنده، لكن اعترضه في البحر بقوله: ويخالفه ما في المعراج في فصل زكاة العروض أن الزكاة تجب في النقد كيفما أمسكه للنماء أو للنفقة، وكذا في البدائع في بحث النماء التقديري. اهـ. 

قلت: وأقره في النهر والشرنبلالية وشرح المقدسي، وسيصرح به الشارح أيضا، ونحوه قوله في السراج سواء أمسكه للتجارة أو غيرها، وكذا قوله في التتارخانية نوى التجارة أولا، لكن حيث كان ما قاله ابن ملك موافقا لظاهر عبارات المتون كما علمت، وقال ح إنه الحق فالأولى التوفيق بحمل ما في البدائع وغيرها، على ما إذا أمسكه لينفق منه كل ما يحتاجه فحال الحول، وقد بقي معه منه نصاب فإنه يزكي ذلك الباقي، وإن كان قصده الإنفاق منه أيضا في المستقبل لعدم استحقاق صرفه إلى حوائجه الأصلية وقت حولان الحول، بخلاف ما إذا حال الحول وهو مستحق الصرف إليها، لكن يحتاج إلى الفرق بين هذا، وبين ما حال الحول عليه، وهو محتاج منه إلى أداء دين كفارة أو نذر أو حج، فإنه محتاج إليها أيضا لبراءة ذمته وكذا ما سيأتي في الحج من أنه لو كان له مال، ويخاف العزوبة يلزمه الحج به إذا خرج أهل بلده قبل أن يتزوج، وكذا لو كان يحتاجه لشراء دار أو عبد فليتأمل، والله أعلم۔‘‘

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144207201683

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں