بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1441ھ- 10 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

حج افراد کا طریقہ


سوال

1۔ میں حدود حرم میں رہائش پزیر ہوں میں حج افراد کروں تو حج افراد کے لیے طوافِ قدوم لازم ہے ؟

2۔حج افراد کا مکمل طریقہ بتائیں!

3۔ حج افراد کا احرام کس دن باندھا جائے 6 ذی الحج یا  7  یا  8  کس دن حج کا احرام باندہوں؟

جواب

1۔ حدود حرم میں رہنے والوں پر طواف قدوم نہیں ہے۔(غنیۃ الناسک :216،ط:ادارۃ القرآن)

2۔حج افراد کرنے والا احرام باندھتے ہوئے صرف حج کی نیت کرے گا،اگر وہ افراد کرنے والا حاجی حدودِ حرم سے باہر سے آیا ہے تو وہ سب سے پہلے طواف قدوم کرے گا، اور اگر حدود حرم میں ہی پہلے سے رہائش پذیر ہے تو اس پر طواف قدوم نہیں ہے۔ آٹھ ذو الحجہ کی فجر کی نماز کے بعد منی جائے گا، وہاں نو ذو الحجہ کی صبح تک رہے گا،نو ذو الحجہ کی فجر کی نماز کے بعد عرفات جائے گا اور غروبِ آفتاب تک وہاں ٹھہرے گا،غروب آفتاب کے بعد مزدلفہ کے لیے روانہ ہوگا، رات مزدلفہ میں قیام کرے گا اور فجر کی نماز مزدلفہ میں ادا کرنے کے بعد منیٰ کے لیے روانہ ہوگا،منیٰ پہنچ کر بڑے شیطان کو کنکریاں مارے گا، اور اس کے بعد حلق کرا کر احرام سے نکل جائے گا، تاہم طوافِ زیارت سے پہلے بیوی اس پر حلال نہیں ہوگی۔اس کے بعد طوافِ زیارت کرنا چاہے تو اسی دن کر لے، ورنہ بارہ ذو الحجہ کی مغرب سے پہلے پہلے تک کسی بھی وقت کر سکتا ہے۔اور اس طواف کے ساتھ  صفا اور مروہ کی سعی بھی کر لے۔ اس کے بعد واپس منیٰ آجائے یا اپنی رہائش پر جانا چاہے تو جا سکتا ہے، تاہم رات منیٰ میں گزارے کہ یہ مسنون ہے۔

اگلے دن گیارہ ذو الحجہ اور اس سے اگلے دن بارہ ذو الحجہ کو زوال کے بعد  تینوں شیطانوں کی رمی کرے۔ زوال سے پہلے رمی کرنا درست نہیں ہے۔ گیارہ ذوالحجہ کی رات بھی منیٰ میں گزارنا مسنون ہے۔بارہ ذو الحجہ کی رمی سے فارغ ہونے کے بعد  اگر وہ حدود حرم سے باہر کا رہائش پذیر ہے تو اس کو اپنے وطن واپسی سے پہلے طواف وداع کرنا واجب ہے،اور اگر حدود حرم کا ہی رہائشی ہے تو بارہ ذو الحجہ کی رمی کے بعد اس کا حج مکمل ہو جائے گا۔

3۔حج افراد کرنے والا وہ شخص جو پہلے سے حدود حرم میں رہائش پذیر ہو وہ آٹھ ذو الحجہ کی صبح  منیٰ جانے سے پہلے پہلے تک  احرام پہن سکتا ہے، البتہ آٹھ  ذو الحجہ سے پہلے احرام باندھ لینا افضل ہے۔(غنیۃ الناسک :216،ط:ادارۃ القرآن) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144111200052

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں