بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شعبان 1445ھ 23 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

حج فرض ہونے پر بغیر شرعی عذر کے تاخیر کرنا گناہ ہے


سوال

مجھ پہ حج فرض ہے(پہلے اپنی غفلت کی وجہ  سےنہ کر سکا) اور میں نے گزشتہ سال اپلائی بھی کیا،  مگر اب بدقسمتی سے دوسرا سال ہے حج کی ادائیگی  موقوف ہو گئی ہے،  مجھے رہنمائی چاہیے  کہ میں کیا کروں؟

جواب

جس  شخص پر حج فرض ہو جائے اس پر لازم ہے کہ  جس قدر جلد ممکن ہو  حج ادا کر  لے،  حدیث شریف میں ہے:  حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حج کی ادائیگی میں جلدی کرو ،  کسی کو کیا خبر کہ بعد میں  بعد میں کوئی مرض یا کوئی اور ضرورت لاحق ہو جائے۔حج فرض ہونے کے بعد وقت ملنے پر بھی  بلا عذرِ  شرعی   تاخیر کرنا گناہ ہے،تاہم اگر زندگی  میں ادا کر لیا تو ادا ہو جائے گا اور تاخیر کا گناہ بھی نہ رہے گا، اور اگر زندگی میں ادا نہ کر سکا تو گناہ گار  ہو گا۔

لہذا صورتِ  مسئولہ  میں حج فرض ہونے کے بعد  بلا عذر شرعی تاخیر پر توبہ واستغفار کریں ،  اور جیسے ہی حالات بہتر ہوں  وقت ملنے پر فی الفور حج ادا کر لیں، ادا ہو جائے گا، اور اگر زندگی میں موقع نہ مل سکا تو  اپنے  مال  سے  حج  بدل کی وصیت  لکھ دیجیے گا۔

حدیث شریف میں ہے:

"تعجلوا الخروج إلى مكة فإن أحدكم لايدري ما يعرض له من مرض أو حاجة. "الديلمي عن ابن عباس".

(كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال، ج: 5، صفحہ: 16، رقم الحدیث: 11851، ط:  مؤسسة الرسالة)  

فتاوی شامی میں ہے:

 (على الفور) في العام الأول عند الثاني وأصح الروايتين عن الإمام ومالك وأحمد فيفسق وترد شهادته بتأخيره أي سنينا لأن تأخيره صغيرة وبارتكابه مرة لا يفسق إلا بالإصرار بحر ووجهه أن الفورية ظنية لأن دليل الاحتياط ظني، ولذا أجمعوا أنه لو تراخى كان أداء وإن أثم بموته قبله وقالوا لو لم يحج حتى أتلف ماله وسعه أن يستقرض ويحج ولو غير قادر على وفائه ويرجى أن لا يؤاخذه الله بذلك، أي لو ناويا وفاء إذا قدر كما قيده في الظهيرية.

(قوله: كان أداء) أي ويسقط عنه الإثم اتفاقا كما في البحر قيل: المراد إثم تفويت الحج لا إثم التأخير. قلت: لا يخفى ما فيه بل الظاهر أن الصواب إثم التأخير إذ بعد الأداء لا تفويت وفي الفتح: ويأثم بالتأخير عن أول سني الإمكان فلو حج بعده ارتفع الإثم اهـ وفي القهستاني: فيأثم عند الشيخين بالتأخير إلى غيره بلا عذر إلا إذا أدى ولو في آخر عمره فإنه رافع للإثم بلا خلاف. 

(کتاب الحج، ج: 2، صفحۃ: 455 و456، ط: ایچ، ایم، سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209200434

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں