بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1444ھ 08 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

حائضہ عورت کے کئی سال کے قضاء روزوں کا حکم


سوال

اگر کسی حائضہ عورت نے کئی سال کے روزے قضاء نہیں کیے ہیں تو وہ اب کیا کرے ؟ براہ ِکرم تشفی بخش جواب دیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں حائضہ عورت کےلیے کئی سال کے واجب الادا  روزوں کی قضاء کرنے کا طریقہ یہ ہےکہ چھوڑے گئے ہر ایک روزے کے بدلے ایک روزہ قضا رکھنا ہوگا ،اگر اسے چھوٹے ہوئے روزوں کی تعداد یقینی طور پر معلوم ہے تو اتنے ہی روزوں کی قضاء کرےاور اگر  اسے  گنتی یاد نہیں تو اندازہ لگاکر احتیاطاًاس سے کچھ زیادہ روزوں کی قضاء کرے، حساب اور اندازہ لگانے کا طریقہ یہ ہے کہ:اگر وہ معتادہ( وہ عورت جس کے ماہواری کے ایام متعین و معلوم ) ہو تو وہ اپنی عادت کو ملحوظِ نظر رکھ کرجتنے سال کے روزوں کی قضاء  ہے اس اعتبار سے  حساب لگائے۔

اور اگر معتادہ نہ ہو  تو  غالب گمان کے مطابق ایک تعداد مقرر کرے،اور قضا کی نیت سے اتنے  روزے رکھے، اور نیت یوں کریں کہ میرے ذمہ جتنے روزے ہیں ان میں سے پہلے روزے کی قضا کرتی ہوں،اس طرح ہرروزے میں نیت کرے۔

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاحمیں ہے:-

"خاتمة من لا يدري كمية الفوائت يعمل بأكبر رأيه فإن لم يكن له رأي يقض حتى يتيقن أنه لم يبق عليه شيء."

(باب قضاء الفوائت،ص:447،ط:دارالکتب العلمیۃ بیروت-لبنان)

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبی میں ہے:

"فرع: وفي الحاوي لا يدري ‌كمية ‌الفوائت يعمل بأكبر رأيه فإن لم يكن له رأي يقضي حتى يستيقن."

(کتاب الصلوٰۃ،الترتیب فی الصلوٰۃ،ج:1،ص:190،ط:المکتبۃ الکبریٰ الامیریۃ-بولاق،قاھرۃ)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144308101158

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں