بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو الحجة 1441ھ- 03 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

حیض سے پاک ہونے کے بعد نہانے سے پہلے روزہ رکھنا


سوال

حیض سے فارغ ہونے کے بعد نہانے سے پہلے روزہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟  ایسی صورت میں عشاء کی نماز قضا ہوگی یا نہیں؟

جواب

اگر عورت اپنی عادت کے ایام کے مطابق صبح صادق  سے پہلے حیض سے پاک ہوگئی   تو   اگر اتنا وقت تھا کہ غسل کرکے عشاء کی نماز کی تکبیر تحریمہ کہہ سکتی تھی تو اس پر  اس دن کا روزہ رکھنا لازم ہوگا،  اگرچہ وہ نہائی نہ ہو۔اور عشاء کی نماز  بھی ادا کرنا ضروری ہوگا، اگر ادا نہ کی اس کی قضا کرنا لازم ہوگی۔

اور اگر عورت کی عادت دس دن کی تھی تو  سحری سے کچھ وقت پہلے بھی پاک ہونے کی صورت میں اس پر روزہ رکھنا لازم ہوگا، اگرچہ نہانے کا وقت بھی نہ ملا ہو۔

اور اگر عورت صبح صادق کے بعد حیض سے پاک ہوئی ہو تو اس کا اس دن کا روزہ صحیح نہیں ہوگا اور اس پر عشاء کی نماز کی قضا بھی لازم نہیں ہوگی۔ البتہ اس روزے کی بعد میں قضا کرے گی۔

الفتاوى الهندية (1/ 207):
"ولو طهرت ليلاً صامت الغد إن كانت أيام حيضها عشرةً، وإن كانت دونها فإن أدركت من الليل مقدار الغسل وزيادة ساعة لطيفة تصوم وإن طلع الفجر مع فراغها من الغسل لاتصوم؛ لأنّ مدة الاغتسال من جملة الحيض فيمن كانت أيامها دون العشرة، كذا في محيط السرخسي".

 

 الدر المختار (2 / 409)میں ہے:
 "ولو نوى الحائض والنفساء لم يصح أصلاً للمنافي أول الوقت وهو لايتجزى".

حاشية رد المحتار على الدر المختار (2 / 409) میں ہے:
"(قوله: ولو نوى الحائض والنفساء ) أي قبل نصف النهار إذا طهرتا فيه، (قوله:لم يصح أصلاً ) أي لا فرضاً ولا نفلاً، شرنبلالية، (قوله: للمنافي الخ ) أي فإن كلاًّ من الحيض والنفاس مناف لصحة الصوم مطلقاً؛ لأن فقدهما شرط لصحته ولا صوم عبادة واحدة لايتجزى، فإذا وجد المنافي في أوله تحقق حكمه في باقيه، وإنما صح النفل ممن بلغ أو من أسلم على قول بعض المشايخ؛ لأن الصبا غير مناف أصلاً للصوم، والكفر وإن كان منافياً لكن يمكن رفعه بخلاف الحيض والنفاس ، هذا ما ظهر لي ..." الخ  فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144109200457

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں