بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

حیض کی حالت میں مسجد حرام میں داخل ہونا


سوال

حائضہ عورت حرم میں صفا مروہ کی جانب جا سکتی ہے ؟ پوچھنا یہ ہے کہ وہاں تک جانے کی کیا صورت ہے اگر جائے تو کس دروازے سے داخل ہو کیونکہ آج کل صرف باب عبد العزیز سے ہی مسجد کے اندر جانے دیا جا رہا ہے ، وہاں تک کس طرح سے جائے ؟ نیز یہ بھی واضح فرما دیں کہ صفا مروہ کے آس پاس کا کتنے حصے تک حائضہ کے لیے جانا ٹھیک ہے ،اور کیا اس حصے سے خانہ کعبہ دکھائی دیتا ہے، یا حرم میں کوئی ایسی جگہ ہے جہاں بیٹھ کر حائضہ اپنے ذکر اذکار کر سکے اور کعبہ کو دیکھ سکے؟

جواب

عورت حالتِ حیض میں کسی بھی مسجد میں داخل نہیں ہو سکتی، لہٰذا مسجدِ حرام میں بھی داخل ہونے کی اجازت نہیں، تاہم مسجدِ حرام کی حدود کے باہر  صحن اور صفا مروہ اور اس جانب کے صحن میں اس حالت میں خواتین جا سکتی ہیں،چوں کہ صفا مروہ مسجد حرام سے خارج  ہے، حائضہ صفا مروہ جاسکتی ہے اور وہاں جانے  کے لیے مسجد حرام کے اندر سے  جانا لازم نہیں،  بلکہ مشرقی جانب  مسجدِ  حرام کے صحن سے گزر  کر صفا مروہ  میں داخل  ہوسکتی ہے۔

باقی حرم کے صحن میں مسجد حرام کی حدود  سے باہر عورت کے  لیے اس حالت میں  کسی بھی جگہ بیٹھ کر ذکر و اذکار  کرنا جائز ہے، اور اگر وہاں سے کعبہ کی زیارت ہورہی ہو تو کرسکتی ہے۔ 

النہر الفائق شرح کنز الدقائق میں ہے:

"يمنع صلاةً وصوماً فتقضيه دونها ودخول مسجد والطواف".

(کتاب الطہارہ، باب الحیض، ج:1، ص:130، ط:دار الكتب العلميه) 

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144511102623

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں