بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 محرم 1446ھ 13 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

حیض کی حالت میں روزے کا حکم


سوال

ایام حیض میں روزے نہیں رکھے جاتے، تو کیا ان کا فدیہ ہوتا ہے،یا کفارہ ؟ اور کیا ان روزوں کی بعد میں قضا ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ حالت حیض میں جو روزے  نہیں رکھے جاتے ہیں، ان کا حکم قضا کا ہے نہ کے فدیہ کا یا کفارہ کا، یعنی رمضان گزرجانے کے بعد اس   دوران  چھوٹے ہوئے روزوں کی صرف قضا لازم ہے، کفارہ اور فدیہ نہیں۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما حكم الحيض والنفاس فمنع جواز الصلاة والصوم وقراءة القرآن ومس المصحف إلا بغلاف ودخول المسجد والطواف بالبيت لما ذكرنا في الجنب إلا أن الجنب يجوز له أداء الصوم مع الجنابة ولا يجوز للحائض والنفساء لأن الحيض والنفاس أغلظ من الحدث أو بأن النص غير معقول المعنى وهو قوله صلى الله عليه وسلم تقعد إحداهن شطر عمرها لا تصوم ولا تصلي، أو ثبت معلولا بدفع الحرج لأن درور الدم يضعفهن مع أنهن خلقن ضعيفات في الجبلة فلو كلفن بالصوم لا يقدرن على القيام به إلا بحرج وهذا لا يوجد في الجنابة ولهذا الجنب يقضي الصلاة والصوم وهن لا يقضين الصلاة لأن الحيض يتكرر في كل شهر ثلاثة أيام إلى العشرة فيجتمع عليها صلوات كثيرة فتحرج في قضائها ولا حرج في قضاء صيام ثلاثة أيام أو عشرة أيام في السنة. "

(بدائع الصنائع: كتاب الطهارة، ج:1 ص:303، ط: دار الكتب العلمية)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144509101644

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں