بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1444ھ 07 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

ہفتہ کے دن مچھلی کھانا جائز ہے


سوال

سنیچر کے دن مچھلی کھانا ٹھیک ہے ؟

جواب

بنی اسرائیل کی ایک بستی  ’’ایلہ‘‘  بحرِ قلزم  کے قریب آباد تھی، اس قوم کو اللہ تعالیٰ نے ہفتہ کے دن مچھلی کھانے سے منع فرمایا تھا اور یہ اس قوم کی آزمائش تھی،  لیکن جب وہ اس آزمائش میں ناکام ہوگئے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کو پسِ پشت ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بندر اور خنزیر بنا دیا۔

یہ آزمائش اور یہ حکم اسی امت کے ساتھ خاص تھی، امتِ محمدیہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے لیے یہ حکم نہیں ہے۔ نیز اسلام کے روشن واضح اور باسہولت احکام آنے کے بعد پچھلی امتوں کے ان احکام کو نیکی سمجھ کر اختیار کرنا جن کا ہماری شریعت نے التزام نہیں کیا، اس سے قرآنِ پاک اور احادیثِ مبارکہ میں منع کیا گیا ہے؛ لہذا  ہفتہ والے دن نہ صرف بلا کسی شک و تردد کے مچھلی کھانا جائز ہے، بلکہ اگر کوئی اس دن مچھلی کھانے میں کراہت سمجھتا ہے یا اس دن مچھلی نہ کھانا زیادہ بہتر سمجھتا ہے تو اس کا یہ طرزِ عمل اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں ہے۔

سورہ بقرہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ." ﴿البقرة: ٢٠٨﴾

ترجمہ:" اے ایمان والو! مکمل طور پر اسلام میں داخل ہوجاؤ ، اور شیطان کے نقشِ قدم کی پیروی نہ کرو؛ اس لیے کہ وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔"

مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ آیات اس موقع پر نازل ہوئیں جب ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے جو یہودیت سے مسلمان ہوئے تھے، انہوں نے یہ سوچ کرکہ یہودیت میں اونٹ کا گوشت کھانا بالکلیہ منع ہے، اور اسلام میں اسے کھانا فرض یا واجب نہیں ہے، بلکہ صرف مباح ہے، اس لیے اگر میں اونٹ کا گوشت نہ کھاؤں تو اسلام کے کسی حکم کی صریح مخالفت بھی نہیں ہوگی اور شریعتِ موسویہ پر بھی عمل ہوجائے گا، گویا اپنے گمان کے مطابق جمع بین الخیرین کا تصور باندھا۔ لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس سے سختی سے منع فرمادیا کہ اسلام قبول کرنے کا مطلب تمام لوازمات سمیت اسلام قبول کرنا ہے، یہ طرز مسلمان کے شایانِ شان نہیں ہے، اس لیے نیک لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس سے رک جائیں۔ چناں چہ ان صحابی رضی اللہ عنہ نے ایسا خیال بھی ذہن سے نکال دیا۔ قرآنِ پاک نے اسے شیطان کی پیروی کے مترادف قرار دیا ہے، اس لیے کسی کے لیے روا نہیں ہے کہ اسلام کے روشن اور واضح و سہل احکام آنے کے بعد سابقہ شریعتوں کے منسوخ شدہ احکام کو کارِ ثواب یا تقویٰ سمجھ کر اختیار کرے۔

في تفسير ابن كثير:

"يقول [الله] (1) تعالى، لنبيه صلوات الله وسلامه عليه: {واسألهم} أي: واسأل هؤلاء اليهود الذين بحضرتك عن قصة أصحابهم الذين خالفوا أمر الله، ففاجأتهم نقمته على صنيعهم واعتدائهم واحتيالهم في المخالفة، وحذر هؤلاء من كتمان صفتك التي يجدونها في كتبهم؛ لئلا يحل بهم ما حل بإخوانهم وسلفهم. وهذه القرية هي "أيلة" وهي على شاطئ بحر القلزم".

( تفسير ابن كثير ت السلامة: الأعراف: 163، (3 / 493) ط: دار طيبة للنشر والتوزيع)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144311101339

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں