بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

حافظِ قرآن اور قاری قرآن میں فرق


سوال

 حافظِ قرآن اور قاری قرآن کا مطلب کیا ہے؟ اور ان دونوں الفاظ میں فرق کیا ہے؟

جواب

حافظِ  قرآن  کا  مطلب یہ ہے کہ پورا قرآن مجید یاد ہو، اور قاری کا مطلب یہ ہے کہ قرآنِ  مجید  کی تلاوت کرسکتا  ہو  چاہے  قرآن  کا  حافظ  ہو  یا  نہ ہو، البتہ عرف میں اس  سے  مراد  وہ  شخص ہے جو تجوید اور  مہارت  سے قرآ نِ  مجید پڑھتا ہو ، اس لحاظ سے حافظ و  قاری میں یہ فرق ہے کہ حافظ ِ قرآن کے لیے  ضروری نہیں کہ  وہ تجوید میں بھی مہارت رکھتا ہو ،اسی طرح قاری قرآن  کے لیے ضروری نہیں کہ وہ پورے قرآن کا حافظ بھی ہو ۔

لسان العرب میں ہے :

"الحفظ نقيض النسيان و هو التعاهد و قلة الغفلة ... الأزهري: رجل حافظ و قوم حفاظ و هم الذين رزقوا حفظ ما سمعوا و قلما ينسون شيئًا يعونه."

(ظ،‌‌فصل الحاء المهملة،ج7،ص441،ط:دار صادر)

القاموس المحیط :

"قرأه، وـ به، كنصره و منعه، قرءا و قراءة و قرآنًا، فهو قارئ من قرأة و قراء و قارئين: تلاه، كاقترأه، و أقرأته أنا."

(باب الهمزة،‌‌فصل القاف،ص49،ط:مؤسسة الرسالة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144503102956

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں