بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

ڈاکٹر کا دواساز کمپنی سے ہدیہ کا مطالبہ کرنا


سوال

ایک ڈاکٹر ہے جو کسی کمپنی کی دوائیاں لکھتا ہے اور ان کی دوائیاں معیاری بھی ہوتی ہیں اور مریض کے لیے فائدے مند بھی اور وہ ڈاکٹر دوائیوں کے لکھنے کے اندر ہمارے مریضوں کی بھی رعایت کرتا ہے خواہ مخواہ میں اس کمپنی کی دوائیاں نہیں لکھتا اور دوسری دواؤں کو ان کے لیے اس سے زیادہ نافع بھی نہیں سمجھتا لیکن وہ ڈاکٹر ان کمپنی والوں سے پیسوں کی صورت میں مانگ کر ہدایا وصول کرتا ہے ،کیا ڈاکٹر کا ان کمپنی والوں سے یہ ہدایا وصول کرنا درست ہے یا نہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں ڈاکٹر اپنی اجرت مریض سے فیس کی شکل میں وصول کرلیتےہیں ،اور اسی فیس کی بنیاد پر مریض کا چیک اپ کرکے اسے مناسب اور معیاری دوا لکھ کر دینا ڈاکٹر کا فرض بنتا ہے ۔ لہذا مریضوں سے فیس وصول کرلینے کے باوجود ڈاکٹر کا دواساز کمپنیوں سے ہدایا کے نام پر رقم یا سامان لینا جائز نہیں ، کیوں کہ ان ہدایا کی وصولی کا بوجھ بھی بالآخرمریض پر ہی  پڑتا ہے۔نیز ڈاکٹر کا کسی مخصوص کمپنی سے دوا تجویز کرنے کے بدلے میں ہدایا کا از خود مطالبہ کرنا بدرجہ اولیٰ جائز نہیں ۔

چنانچہ مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں :

’’اگر کوئی آدمی کسی سے اس طرح کوئی چیز مانگے کہ مخاطب راضی ہو یا ناراض ، لیکن اس کے پاس دینے کے سوا کوئی چارہ نہ رہے، تو اس طرح ہدیہ طلب کرنا بھی غصب میں داخل ہے ، لہذا اگر مانگنے والا کوئی صاحب اقتدار، یا ذی وجاہت شخص ہو، اور مخاطب اس کی شخصیت کے دباؤ کی وجہ سے انکار نہ کرسکتا ہو تو وہاں صورت چاہے ہدیہ طلب کرنے کی ہو، لیکن حقیقت میں وہ غصب ہی ہوتاہے، اور مانگنے والےکے لیے اس طرح حاصل کی ہوئی چیز کااستعمال جائز نہیں ہوتا‘‘۔

(معارف القرآن ،سورہ ص،ج:7، ص:505،ط:معارف القرآن )

فتاوی شامی میں ہے :

"(قوله: إن دلني إلخ) عبارة الأشباه إن دللتني. وفي البزازية والولوالجية: رجل ضل له شيء فقال: من دلني على كذا فهو على وجهين: إن قال ذلك على سبيل العموم بأن قال: من دلني فالإجارة باطلة؛ لأن الدلالة والإشارة ليست بعمل يستحق به الأجر، وإن قال على سبيل الخصوص بأن قال لرجل بعينه: إن دللتني على كذا فلك كذا إن مشى له فدله فله أجر المثل للمشي لأجله؛ لأن ذلك عمل يستحق بعقد الإجارة إلا أنه غير مقدر بقدر فيجب أجر المثل، وإن دله بغير مشي فهو والأول سواء".

(‌‌كتاب الإجارة ، باب فسخ الإجارة ج: 6 ص: 95 ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506101686

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں