بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

حدیث مبارکہ کے جملہ’’قبروں پر نہ بیٹھو‘‘کی تشریح


سوال

 صحیح مسلم، کتاب الجنائز کی حدیث نمبر 972، اس حدیث میں’’ قبروں پر نہ بیٹھو‘‘، اس سے کیا مراد ہے؟ وضاحت مطلوب ہے ،کیاقبروں  کی تعظیم کی طرف اشارہ ہے ؟

جواب

صحیح مسلم ،کتاب الجنائز کی حدیث نمبر 972 مکمل متن کے ساتھ درج ذیل ہے:

"وحدثني علي بن حجر السعدي ، حدثنا الوليد بن مسلم ، عن ابن جابر ، عن بسر بن عبيد الله ، عن واثلة ، عن أبي مرثد الغنوي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « لا تجلسوا على القبور ولا تصلوا إليها »"

(کتاب الجنائز،‌‌باب النهي عن الجلوس على القبر والصلاة إليه،ج:3،ص:62،رقم الحدیث:972،ط:دار الطباعة العامرة)

ترجمہ:حضرت ابو مرثد غنوی کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’نہ قبروں کے اوپر بیٹھو اور نہ قبروں کی طرف نماز پڑھو۔‘‘(مظاہر حق)

اس حدیث مبارکہ  کے پہلے جملہ میں قبروں کی تعظیم کی طرف اشارہ  ہے،یعنی وہ افعال جن سے صاحب قبر مومن  کی بے حرمتی اور تحقیر ہوتی ہو،مثلاً قبروں پر بیٹھنا ،ان پر ٹیک لگانا،پاؤں سے روندنا ،پھلانگنا وغیرہ ،ان تمام کاموں سے منع فرمایا گیا ہے،اور مومن صاحب قبر کی حرمت کی وجہ سے قبروں کی تعظیم کا حکم دیاگیا ہے،لیکن اس کے ساتھ حدیث مبارکہ کے دوسرے جملہ میں تعظیم کی حد بھی بیان فرمادی کہ تعظیم کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ قبروں کو سجدہ گاہ بنالو،اور اس کی طرف رخ کرکے نماز اورمناجات وغیرہ کرنے لگو،اس کی ہرگز اجازت نہیں ،بلکہ اگر قبر کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے سے مقصود حقیقتاً صاحب قبر یا قبر کی تعظیم ہو،تو یہ کفر ہے ،لہذا قبر کے پاس جوعمل سنت سے ثابت ہے ،اس پر اکتفاء کرنا لازم ہے۔

شرح نووی علی مسلم میں ہے:

"لا تجلسوا على القبور ولا تصلوا إليها) فيه تصريح بالنهى عن الصلاة إلى القبر قال الشافعي رحمه الله وأكره أن يعظم مخلوق حتى يجعل قبره مسجدا مخافة الفتنة عليه وعلى من بعده من الناس."

(کتاب الجنائز،ج:6،ص:231،ط:دار إحياء التراث العربي)

مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن أبي مرثد الغنوي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌لا ‌تجلسوا ‌على ‌القبور، ولا تصلوا إليها» ، رواه مسلم.

 (وعن أبي مرثد) بفتح الميم والمثلثة. (الغنوي) بفتحتين. (قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «‌لا ‌تجلسوا ‌على ‌القبور» ) . قال ابن الهمام: وكره الجلوس على القبر ووطأه وحينئذ فما يصنعه الناس ممن دفنت أقاربه ثم دفنت حواليه من وطء تلك القبور إلى أن يصل إلى قبر قريبه مكروه، ويكره النوم عند القبر، وقضاء الحاجة، بل أولى، ويكره كل ما لم يعهد من السنة، والمعهود منها ليس إلا زيارتها والدعاء عندها قائما، كما كان يفعل رسول الله صلى الله عليه وسلم في الخروج إلى البقيع، ويقول: «السلام عليكم دار قوم مؤمنين، وإنا إن شاء الله بكم لاحقون، أسأل الله لي ولكم العافية» . (ولا تصلوا) أي: مستقبلين. (إليها) لما فيه من التعظيم البالغ، لأنه من مرتبة المعبود فجمع بين الاستحقاق العظيم والتعظيم البليغ قاله الطيبي، ولو كان هذا التعظيم حقيقة للقبر أو لصاحبه لكفر المعظم، فالتشبه به مكروه، وينبغي أن تكون كراهة تحريم، وفي معناه، بل أولى منه الجنازة الموضوعة، وهو مما ابتلي به أهل مكة حيث يضعون الجنازة عند الكعبة ثم يستقبلون إليها، وأما قول ابن حجر: مستقبلين إليها وعندها فغير ظاهر من الحديث، بل مناف لمفهوم. (إليها) فتأمل."

(کتاب الجنائز،باب دفن الميت،ج:3،ص:1217،رقم:1698،ط:دار الفكر)

مظاہر حق میں ہے:

’’قبر کے اوپر بیٹھنے سے اس لیے منع فرمایا گیا ہے کہ یہ مومن کے اکرام وشرف کے منافی ہے،بایں طور کہ قبر کے اوپر چڑھ کر بیٹھنے سے صاحب قبر کی تحقیر اور بے وقعتی لاز  م آتی ہے۔بعض حضرات فرماتے ہیں کہ ’’قبر کے اوپر بیٹھنے ‘‘سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص  اظہار رنج وغم کے لیے قبر کے پاس مسلسل بیٹھا رہے ،جیسے کہ بعض لوگ فقراور دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرکے اپنے کسی محسن ومتعلق ہی کی قبر کو اپنا مسکن بنالیتے ہیں ،لہذا اس سے منع فرمایا گیا ہے۔‘‘

(کتاب الجنائز،باب دفن الميت،جلد دوم،صفحہ:118،ط:دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506100266

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں