بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ربیع الاول 1443ھ 24 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے نام سے علیہا السلام لکھنے کا حکم


سوال

کیا حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو علیہ السلام کہنا جائزہے؟ جس طرح بخاری شریف حدیث نمبر 4433 میں آیاہے!

جواب

واضح رہے "علیہ السلام" کا لفظی ترجمہ ہے "ان پر سلامتی ہو"، لغوی معنیٰ  کے اعتبار سے یہ لفظ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا، بلکہ کسی بھی بزرگ شخصیت کے لیے استعمال کیا جاسکتاہے اور اصولی طور پر شرع میں اس کی ممانعت نہیں ہے، البتہ اہلِ سنت والجماعت کے عرف و اصطلاح میں "علیہ السلام" اصلاً انبیاءِ کرام علیہم السلام کےساتھ مخصوص ہے، اس لیے اسے انبیاءِ کرام علیہم السلام کے لیے ہی استعمال کرناچاہیے، البتہ ضمناً دیگر حضرات کاتذکرہ ہو تو ان کے لیے بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ مثلاًانبیاء  اورصحابہ کرام کاتذکرہ ہو اور پھر سب کے لیے علیہم السلام کہاجائے تو درست ہے۔

بصورتِ مسئولہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ایک صحابیہ  تھیں، اور  صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین وغیرہم کے لیے انبیاءِ کرام علیہم السلام کے ذکر کے بعد تبعاً ”علیہ السلام“ کہنا جائز ہے، مستقلاً اہلِ سنت و الجماعت کے ہاں درست نہیں، نیز حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا  کے نام کے ساتھ "علیہا السلام" کہنا اہلِ بدعت روافض کا شعار ہے، وہ معصوم مان کر ایسا کہتے ہیں؛ اس لیے اس سے بچنا چاہیے۔ بخاری کی مذکورہ روایت میں اس کا ذکر ضرور ہے، لیکن یہ اصطلاحات مقرر ہونے سے پہلے کی بات ہے، اس زمانے میں آج کل کی طرح یہ اہلِ بدعت کا شعار نہیں بنا تھا۔ 

جامعہ کے سابقہ فتاویٰ میں ہے:

واضح رہے کہ کسی بزرگ کے نام کے ساتھ "علیہ السلام" کا لفظ کہنا شرعاً ممنوع نہیں ہے؛ کیوں کہ "علیہ السلام" کا معنیٰ ہے: "اس پر سلامتی ہو"، اور ہم آپس میں بھی جو ایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں "السلام علیکم" اس کے بھی یہی معنیٰ ہیں کہ "تم پر سلامتی ہو"، تو شرعاً اس کے کہنے میں کچھ ممانعت نہیں ہے، البتہ اہلِ سنت والجماعت کے ہاں "علیہ السلام"انبیاء کے ساتھ خاص ہے، اور "رضی اللہ عنہ" کے الفاظ صحابۂ کرام کے ساتھ خاص ہیں، اور یہ شعائرِ اہلِ سنت میں سے ہے، جو کوئی اس کے خلاف کرتاہے وہ شعائرِ اہلِ سنت کے خلاف کرتاہے۔ فقط واللہ اعلم

کتبہ: محمد ولی درویش (17/1/1403)

فتاوی شامی میں ہے:

وأما السلام فنقل اللقاني في شرح جوهرة التوحيد عن الإمام الجويني أنه في معنى الصلاة، فلا يستعمل في الغائب ولا يفرد به غير الأنبياء فلا يقال علي - عليه السلام - وسواء في هذا الأحياء والأموات إلا في الحاضر فيقال: السلام أو سلام عليك أو عليكم وهذا مجمع عليه اهـ.

أقول: ومن الحاضر السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين، والظاهر أن العلة في منع السلام ما قاله النووي في علة منع الصلاة أن ذلك شعار أهل البدع، ولأن ذلك مخصوص في لسان السلف بالأنبياء عليهم الصلاة والسلام  كما أن قولنا عز وجل مخصوص بالله تعالى، فلا يقال: محمد عز وجل وإن كان عزيزًا جليلًا ثم قال اللقاني: وقال القاضي عياض الذي ذهب إليه المحققون، وأميل إليه ما قاله مالك وسفيان، واختاره غير واحد من القهاء والمتكلمين أنه يجب تخصيص النبي صلى الله عليه وسلم  و سائر الأنبياء بالصلاة والتسليم كما يختص الله سبحانه عند ذكره بالتقديس والتنزيه، ويذكر من سواهم بالغفران والرضا كما قال الله تعالى - رضي الله عنهم ورضوا عنه يقولون ربنا اغفر لنا ولإخواننا الذين سبقونا بالإيمان - وأيضا فهو أمر لم يكن معروفا في الصدر الأول، وإنما أحدثه الرافضة في بعض الأئمة والتشبه بأهل البدع منهي عنه فتجب مخالفتهم.

(مسائل شتی،ج:6،ص:753،ط:ایچ ایم سعید)

فقط والله أعلم 


فتوی نمبر : 144201201251

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں