بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو القعدة 1445ھ 18 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

حدیث:’’زیادہ ہنسنے سے دل مردہ ہوجاتا ہے‘‘ کی تشریح


سوال

درج ذیل  حدیث کی تشریح بیان کردیں: 

’’ زیادہ ہنسنے سے دل مردہ ہو جاتا ہے‘‘۔

جواب

۱- سوال میں آپ نے جس حدیث کی تشریح کے متعلق دریافت کیا ہے،یہ حدیث"سنن الترمذي"،"سنن ابن ماجه"،"مسند أحمد"،"المصنف لابن أبي شيبة"،"المعجم الأوسط"،"شعب الإيمان" ودیگرکتبِ احادیث میں کہیں مختصراً، اور  کہیں تفصیلاً مذکور ہے۔"سنن ابن ماجه"کی حدیث کے الفاظ درج ذیل ہیں:

"حدّثنا بَكر بن خَلَفٍ، حدثنا أبو بكر الحنفيُّ، حدّثنا عبدُ الحميد بنُ جعفرَ عن إِبراهيم بنِ عبد الله بنِ حُنين عن أبي هُريرة-رضي الله عنه- قال: قال رسولُ الله - صلّى الله عليه وسلّم -: لا تُكثِروا الضِّحك؛ فإنَّ كثرة الضِّحك تُميت القلب" .

 (سنن ابن ماجه، أبواب الزهد، باب الحزن والبكاء، 5/285، رقم: 4193، ط: دار الرسالة العالمية)

ترجمہ:

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:زیادہ ہنسنے سے پرہیز کرو،اس لیے کہ زیادہ ہنسنادل کو مردہ بنادیتا ہے‘‘۔

۲۔علامہ شہاب الدین بوصیری رحمہ اللہ"مصباح الزجاجة في زوائد ابن ماجه"میں مذکورہ حدیث   کی سند پر کلام  کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"هذا إسنادٌ صحيحٌ، وأبو بكر الحنفيُّ اسمُه عبدُ الكبير بنُ عبد المجيد البَصريُّ".

(مصباح الزجاجة، كتاب الزهد، باب الحزن والبكاء، 4/233، ط:دار العربية-بيروت)

ترجمہ:

’’یہ  سند صحیح ہے۔(سند میں میں مذکور راوی)ابوبکر الحنفی  کانام عبد الکبیر بن عبد المجید البصری ہے‘‘۔

۳۔ملا علی قاری رحمہ اللہ  "مرقاة المفاتيح"میں اس حدیث کی تشریح میں  لکھتے ہیں:

"(ولا تُكثِر الضِّحك) أيْ: تَكُنْ طيِّبَ القلب وحَيّاً بِذكر الربِّ (فإنَّ كثرةَ الضِّحك) أيْ: المُورِّثةَ لِلغفلة عَن الاستعداد لِلموت وما بعدَه مِن الزاد لِلمعاد (تُميت القلب) أيْ: إنْ كان حَيّاً، ويزيدُ اسوِداداً إنْ كان مَيِّتاً".

(مرقاة المفاتيح، كتاب الرقاق، 8/3237، ط: دار الفكر،بيروت-لبنان)

ترجمہ:

’’(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد):"ولا تُكثِر الضِّحك"(زیادہ ہنسنے سےپرہیزکرو)سےمراد یہ ہے کہ پاکیزہ دل اور(اپنے) رب کی یادکےذریعے زندہ رہو،"فإنَّ كثرةَ الضِّحك"( اس لیے کہ زیادہ ہنسنا)،یعنی وہ ہنسناجو موت اور اس کے بعد کی  اخروی  زندگی کی تیاری میں غفلت کا سبب بنے،"تُميت القلب"(دل کو مردہ بنادیتا ہے)،یعنی  اگر دل زندہ ہو(تواسے مردہ بنادیتا ہے)،اوراگر مردہ ہوتواس کی سیاہی میں مزید اضافہ کردیتا ہے‘‘۔

علامہ عبدالرؤوف مناوی رحمہ اللہ"فيض القدير شرح الجامع الصغير"میں لکھتے ہیں:

"(وَلا تُكثِر الضِّحك) ... هو كيفيّةٌ يحصلُ منها انبساطٌ في القلب مما يعجبُ الإنسانُ مِن السرور ويظهرُ ذلك في الوجه، والإكثارُ منه مُضرٌّ بِالقلب، مَنهيٌ عنه شرعاً، وهو مِن فعل السُّفهاء والأراذلِ، مُورِّثٌ للأمراض النفسانيّة؛ ولذا قال:(فإنّكثرة الضِّحكتُميت القلب) أيْ: تَصيرُه مغمُوراً في الظُّلمات بِمنزلة الميِّت الذي لا ينفعُ نفسُه بِنافعةٍ، ولا يدفعُ عنها شيئاً مِن مكروهٍ".

(فيض القدير،حرف الهمزة، 1/124، رقم:118، ط:المكتبة التجارية الكبرى-مصر)

ترجمہ:

’’"ضِحك"اس کیفیت کانام ہے جو انسان کو خوشی کی وجہ سے دلی انبساط کی صورت میں  حاصل ہوتی ہے اور چہرے پر ظاہر ہوتی ہے۔اس کی کثرت دل کے لیےمضر ہے،شرعاً ممنوع ہے۔یہ(زیادہ ہنسنا) بےوقوف اورہلکے لوگوں کاکام ہے،نفسانی امراض کاسبب ہے،اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"فإنَّ كثرةَ الضِّحك تُميت القلب"(زیادہ ہنسنا دل کومردہ بنادیتا ہے)،یعنی  مردے کی طرح  اسے یوں تاریکیوں میں گم گشتہ کردیتا ہےکہ نہ تو اسے کسی فائدہ مند چیز سے فائدہ  ہوتا ہےاورنہ ہی وہ اپنے آپ سےکسی ناپسندیدہ چیزکو دورکرسکتاہے‘‘ ۔

شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمہ اللہ"لمعات التنقيح في شرح مشكاة المصابيح"میں لکھتے ہیں:

"وقولُه:(ولا تُكثِر الضِّحك) ... والعلّة الغفلة؛ فإنّ حياةُ القلب في ذكرِ الله".

(لمعات التنقيح، كتاب الرقاق، الفصل الثاني، 8/412، رقم:5171،  ط: دار النوادر، دمشق-سوريا)

ترجمہ:

’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد:"ولا تُكثِر الضِّحك"(زیادہ ہنسنے سے پرہیز کرو)میں  (زیادہ ہنسنےسے) دل کے مردہ ہونے کی وجہ ( اللہ کی یاد سے) غفلت ہے؛ اس  لیے کہ دل کی حیات  اللہ کی یاد میں ہے‘‘۔

شیخ ابو الحسن نورالدین سندھی رحمہ اللہ"كفاية الحاجة في شرح سنن ابن ماجه(حاشية السندي على سنن ابن ماجه)"میں لکھتے ہیں:

"قولُه: (تُميت القلب) أيْ: تجعلُه قاسياً لا يتأثَّرُ بِالمواعظ كالميِّت".

(كفاية الحاجة، كتاب الزهد، باب الحزن والبكاء، 2/548، رقم:4193، ط:دار الجيل-بيروت)

ترجمہ:

’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم    کے ارشاد:"تُميت القلب"(زیادہ ہنسنا)دل کو مردہ بنادیتا ہے)سے مراد یہ ہے کہ (زیادہ ہنسنا)دل کو ایساسخت بنادیتا ہےکہ مردےکی طرح پھر اس پر وعظ ونصیحت کی کوئی بات اثر نہیں کرتی ‘‘۔

نواب قطب الدین دہلوی رحمہ اللہ ’’مظاہر ِحق ‘‘میں لکھتے ہیں:

’’اورتم زیادہ ہنسنے سے پرہیز کرو؛کیوں کہ زیادہ ہنسنا دل کومردہ(اورخدا کی یاد سے غافل)بنادیتا ہے(اگر تم زیادہ ہنسنے سےاجتناب کرو گےتو تمہارا دل روحانی بالیدگی وتروتازگی اورنور سے بھرارہے گااور ذکراللہ کے ذریعے اس کو زندگی وطمانیت نصیب ہوگی)‘‘۔

(مظاہرِ حق،کتاب الرقاق، الفصل الثانی، ۴/۶۴۰،ط:دار الاشاعت کراچی)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144502101383

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں