بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

حدیث: ’’مخلوق کو راضی کرنے میں خالق کو ناراض مت کرو‘‘ کی تخریج وتحقیق


سوال

درج ذيل حدیث، احادیث کی کتابوں میں موجود ہے؟ رہنمائی فرمائیں:

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مخلوق کو راضی کرنے میں خالق کو ناراض مت کرو۔

جواب

سوال  میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت سے جس حدیث کا ترجمہ ذکرکرکے اس کے بارے میں دریافت کیا گیا ہے،بعینہ انہی الفاظ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب  کوئی حدیث  ہمیں نہیں مل  سکی، البتہ "مصنف ابن أبي شيبة"، "مسند أحمد"،"المعجم الكبير للطبراني"ودیگر کتبِ حدیث میں  حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس سے  ملتے جلتے الفاظ میں ایک روایت مروی ہے۔"مسند أحمد"میں یہ روایت ، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے درج ذیل الفاظ میں مروی ہے:

"حدّثنا عبد الله، حدّثنا عبيد الله بنُ عمر القَواريريُّ، حدّثنا ابنُ مهديٍّ عن سفيان عن زُبَيْدٍ عن سعد بن عُبَيدة عن أبي عبد الرحمن السُّلَميِّ عن عليٍّ عن النبيِّ صلّى الله عليه وسلّم، قال:  لَا طاعةَ لِمخلوقٍ في معصية الله -عزّ وجلّ-". 

ترجمہ:

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مخلوق کے کسی ایسے حکم کی تابع داری جائز نہیں جس سے  اللہ عزوجل کی نافرمانی ہو‘‘۔ (بعض روایات میں:"في معصية الله -عزّ وجلّ-"کی بجائے :"في معصية الخالق"کے الفاظ مذکورہیں(یعنی  مخلوق کے کسی ایسے حکم کی تابع داری جائز نہیں جس سے خالق کی نافر مانی ہو)‘‘۔

(مسند أحمد، مسند علي بن أبي طالب-رضي الله عنه، 2/333، رقم:1095، ط:مؤسسة الرسالة)

حافظ نور الدین ہیثمی رحمہ اللہ"مجمع الزوائد ومنبع الفوائد"میں مذکورہ حدیث کے متعلق لکھتے ہیں:

"رَواهُ أحمد بِألفاظٍ ...  ورِجالُ أحمد رِجالُ الصّحيح".

ترجمہ:

’’امام  احمد رحمہ اللہ نے("مسند أحمد"   میں) یہ حدیث مختلف الفاظ سے روایات  کی ہے۔۔۔اور امام احمد رحمہ اللہ (کی مذکورہ حدیث )کے  تمام روات صحیح کے روات ہیں(یعنی ثقہ ہیں)‘‘۔

(مسند أحمد، كتاب الخلافة، باب لا طاعة في معصية، 5/226، رقم:9143، ط: مكتبة القدسي-القاهرة)

اس حدیث کے راوی    ثقہ ہیں اور یہ حدیث قابلِ بیان ہے۔

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144502100088

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں