بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

حدیث:’’کسی کو عیب کی نظر سے نہ دیکھو ورنہ مرنے سے پہلے اللہ تعالی تمہارے اندر وہ عیب پیدا کردیں گے‘‘ کی تخریج وتحقیق


سوال

 کسی کو عیب کی نظر سے نہ دیکھو ،ورنہ  مرنے سے پہلے اللہ تعالی تمہارے اندر وہ عیب پیدا کردیں گے۔

کیا یہ بات کسی حدیث میں ہے؟اگر یہ حدیث ہے تو کونسی کتاب میں مذکور ہے؟اگر کسی کا قول ہے تو بھی رہنمائی کیجیے۔

جواب

سوال میں جو الفاظ ذکر کرکے ان کے بارے میں دریافت کیاگیا ہے،قریب قریب انہی الفاظ میں تو حضرت یحیی بن جابر رحمہ اللہ کا  ایک قول ہے، جوكتبِ حديث میں   سے"شعب الإيمان للبيهقي"، اور کتبِ تاریخ میں سے "تاريخ مدينة دمشق لابن عساكر"ودیگر مختلف کتب میں مذکورہے۔امام بیہقی رحمہ اللہ نے"شعب الإيمان"میں اپنی سند کے ساتھ یہ قول درج ذیل الفاظ میں ذکر کیا ہے:

"أخبرنا أبو عبد الله الحافظُ وأبو بكر القاضِيْ وأبو سهل المِهرانيُّ قالُوا: نا أبو العباس الأصمُّ، نا أبو عُتبة أحمد بنُ الفَرَج، نا محمّد بنُ حِمْيَر، نا أبو سَلَمة، حدّثني يحيى بنُ جابرٍ قال: مَا عابَ رجلٌ قطُّ بِعيبٍ إلّا ابتلاهُ الله ِبمثل ذلك العيبِ".

ترجمہ:

’’جب کبھی  کسی شخص   نے( کسی میں) کوئی عیب نکالا تو اللہ تعالی نے اسے بھی اسی عیب میں مبتلا کیا ہے‘‘۔

(شعب الإيمان، 9/119، رقم:6354، ط: مكتبة الرشد-الرياض)

البتہ مذکورہ قول کے ہم معنی الفاظ،احادیثِ مبارکہ اور آثار ِصحابہ وتابعین  میں بھی مذکور ہیں،جس کی تفصیل  یہ  ہے۔ "سنن الترمذي"  میں اس مضمون کی ایک روایت کے الفاظ درج ذیل ہیں:

"حدّثنا أحمد بنُ منيعٍ، قال: حدّثنا محمّد بنُ الحسن بن أبي يزيد الهمدانيُّ عن ثور بن يزيد عن خالد بن مَعدان عن معاذ بن جبلٍ-رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلّى الله عليه وسلّم-: مَن عيّر أخاهُ بِذنبٍ لم يمتْ حتّى يعملَه. قال أحمد: قالوا: مِن ذنبٍ قد تاب منه".

ترجمہ:

’’حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس نے اپنے (مسلمان) بھائی کو کسی گناہ پر عار دلائی تو اس (عار دلانے  والے شخص)کو  اس وقت تک موت نہیں آئے گی جب تک کہ   وہ (عار دلانے والا شخص )بھی وہی  کام نہ کرلے‘‘۔(امام ترمذی رحمہ اللہ کے استاذ )احمد(بن منیع) رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:محدثین رحمہم اللہ کاکہنا  ہے کہ اس  سے مراد وہ گناہ ہے جس سے وہ توبہ کرچکاہو‘‘۔

امام ترمذی رحمہ اللہ مذکورہ حدیث کا حکم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"هَذا حديثٌ حسنٌ غريبٌ، وليس إسنادُه بِمتصلٍ، وخالد بنُ مَعدان لم يُدرِك معاذ بنَ جبلٍ، ورُوي عن خالد بنِ معدان أنّه أدرك سبعينَ مِن أصحاب النبيِّ -صلّى الله عليه وسلّم-، ومات معاذ بنُ جبلٍ في خِلافة عمر بن الخطّاب، وخالد بنُ مَعدان رَوى عن غير واحدٍ مِن أصحاب معاذ عن معاذٍ غيرَ حديثٍ".

ترجمہ:

’’یہ حدیث ’’حسن غریب‘‘ہے،اور اس کی سند متصل نہیں (بلکہ منقطع ہے ،پھر اسی کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں): خالد بن معدان رحمہ اللہ نے (حضرت  ) معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا(یعنی خالد  بن معدان رحمہ اللہ  کا حضرت معاذ  رضی اللہ عنہ سے لقاء ثابت نہیں ہے)،خالد بن معدان رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ستر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کوپایاہے(یعنی ان سے ملاقات کا شرف حاصل کیا ہے،حضرت معاذ  رضی اللہ عنہ ان حضرات  میں شامل نہیں تھے،اس لیےکہ حضرت ) معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ (حضرت ) عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور ِ خلافت میں(سن اٹھارہ ہجری میں) انتقال فرماچکے تھے،خالد بن معدان رحمہ اللہ نے (حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے براہِ راست تو حدیث روایت  نہیں کی ، البتہ) حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے کئی تلامذہ  کے واسطہ سےان سے  کئی حدیثیں  روایت کی ہیں‘‘۔ 

(سنن الترمذي، أبواب صفة القيامة ... إلخ، باب(بدون الترجمة)، 4/661، رقم:2505، ط: مصطفى البابي الحلبي-مصر)

امام ترمذی رحمہ اللہ کی بیان کردہ مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ یہ حدیث ’’حسن غریب‘‘ ہےاور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے  خالد بن معدان رحمہ اللہ کا  لقاء ثابت نہ ہونے کی وجہ سے اس کی سند  منقطع  اور ضعيف ہے۔البتہ   مذکورہ حدیث کے  شواہد موجود ہیں، جن سے اس کےمعنی کوتائید وتقویت حاصل  ہوتی ہے ۔ حافظ سخاوی رحمہ اللہ"المقاصد الحسنة في بيان كثير من الأحاديث المشتهرة على الألسنة"میں مذکورہ حدیث  کا حکم اور اس کے شواہد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"حديث: مَن عيّر أخاهُ بِذنبٍ لم يمتْ حتّى يعملَه. الترمذيُّ وابنُ منيعٍ والطبرانيُّ وغيرُهم عن معاذٍ به مرفوعاً، وقال الترمذيُّ: إنّه حسنٌ غريبٌ، وليس إسنادُه بِمتصلٍ، قال: وقال أحمد بنُ منيعٍ يعني شيخَه: قالُوا: مِن ذنبٍ قد تاب منه.

قلتُ: ونحوُه: "فَلْيَجْلِدْهَا الْحَدَّ وَلَا يُثرِّبْ"، أيْ: لا يُوبِّخْ ولا يَقرعْ بِالزِّنا بعد الجَلْد. وقد مضى في: "البلاءُ مِن الموحدة" حديثُ ابن مسعودٍ: "لَوْ سَخِرْتُ مِنْ كَلْبٍ لَخَشِيْتُ أَنْ أُحَوَّلَ كَلْباً". ولِابنِ أبي شيبةَ عن أبي موسى مِن قولِه نحوَه. وعَزاهُ الزِّمخشريُّ في الحُجرات مِن الكشّاف لِعمرو بن شُرحبيل بِلفظ: "لَوْ رَأَيْتُ رَجُلاً يَرْضَعُ عَنْزاً فَضَحِكْتُ مِنْهُ لَخَشِيْتُ أَنْ أَصْنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعَ". ولِلبيهقيِّ عن يحيى بنِ جابرٍ قال: "مَا عَابَ رَجُلٌ قَطُّ رَجُلاً بِعَيْبٍ إِلّا ابْتَلَاهُ الله ِبمثْلِ ذَلِكَ الْعَيْبِ". وعن إِبراهيمَ النخعيِّ قال:"إِنِّيْ لَأَرَى الشَّيْءَ فَأكْرَهُهُ، فَمَا يَمْنَعُنِيْ أَنْ أَتَكَلَّمَ فِيْهِ إِلّا مَخَافَةَ أَنْ أَبْتَِلىَ بِمِثْلِهِ". ومِن هُنا وَردَ النهيُ عن تَوبيخِ مَن ارتكبَ شيئاً أُقيم عليه الحدُّ كَقولِه -صلّى الله عليه وسلّم-: "وَلَا يُثرِّبْ". وقَولِه حِين قال رجلٌ لِسكرانَ أُقيم عليه الحدُّ:" أَخْزاكَ اللهُ":" لَا تُعِيْنُوْا عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ" إِلى غيرِهما مِن الأَحاديثِ".

ترجمہ:

’’حدیث:"مَن عيّر أخاهُ بِذنبٍ لم يمتْ حتّى يعملَه" (جس نے اپنے (مسلمان)  بھائی کو کسی گناہ پر عار دلائی تو اس (عار دلانے  والے شخص)کو  اس وقت تک موت نہیں آئے گی جب تک کہ   وہ (عار دلانے والا شخص )بھی وہی  کام نہ کرلے)۔(امام) ترمذی، ابنِ منیع ، امام طبرانی رحمہم  اللہ ودیگر حضرات نے یہ  (حضرت) معاذ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً (روایت کی ہے،یعنی حضرت معاذ رضی اللہ عنہ اسے براہِ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں)۔(امام) ترمذی رحمہ اللہ ( اس حدیث کا حکم بیان کرتے ہوئے ) لکھتے ہیں:"إنّه حديثٌ حسنٌ غريبٌ، وليس إسنادُه بِمتصلٍ"(یہ حدیث ’’حسن غریب‘‘ہے،اور اس کی سند متصل نہیں (بلکہ منقطع) ہے)۔نیز اپنے استاذاحمد(بن منیع) رحمہ اللہ سے  نقل فرماتے ہیں:محدثین رحمہم اللہ کاکہنا  ہے کہ اس(حدیث میں  گناہ)  سے مراد وہ گناہ ہے جس سے وہ  شخص توبہ کرچکاہو‘‘۔

میں (حافظ سخاوی رحمہ اللہ) کہتاہوں:

  ۱۔اس کے ہم معنی حدیث :"فَلْيَجْلِدْهَا الْحَدَّ وَلَا يُثرِّبْ"(یعنی زانیہ  کوزناء کرنے کی وجہ سے  )بطورِ حدکوڑے لگائے جائیں، حد  جاری کردینے کے بعد اسے  زجر وتوبیخ (یعنی ڈانٹ ڈپٹ نہ کی جائے)اور زناء کا  طعنہ نہ دیاجائے۔

۲۔ پہلے"البلاء من الموحدة"کے ضمن میں (حضرت) ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ   کا یہ قول  گزرچکاہے:"لَوْ سَخِرْتُ مِنْ كَلْبٍ لَخَشِيْتُ أَنْ أُحَوَّلَ كَلْباً"(اگر میں کسی کتے   کا(بھی) مذاق اڑاؤں  تو مجھے اندیشہ ہے کہ میں کتا بنادیا جاؤں)۔

۳۔"(المصنف)لابن أبي شيبة"میں (حضرت) ابو موسی(اشعری) رضی اللہ عنہ سےبھی اس جیسا قول مروی ہے۔

۴۔(علامہ جار  اللہ ) زمخشری رحمہ اللہ نے"تفسير  الكشاف" كي"سورة الحجرات"میں (حضرت) عمرو بن شرحبیل رضی اللہ عنہ  کی طرف یہ قول منسوب كيا ہے:"لَوْ رَأَيْتُ رَجُلاً يَرْضَعُ عَنْزاً فَضَحِكْتُ مِنْهُ لَخَشِيْتُ أَنْ أَصْنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعَ"(اگر میں کسی آدمی کو دیکھوں جو بکری/ہرنی  کے تھن سے منہ  لگاگر دودھ پی رہا ہے اور میں اس پر ہنس جاؤں تو مجھے اس کا اندیشہ ہے کہ میں بھی ایسا ہی کروں)۔

۵۔("شعب الإيمان) للبيهقي"میں (حضرت)  یحیی بن جابر کا یہ قول  مذکورہے: "مَا عَابَ رَجُلٌ قَطُّ رَجُلاً بِعَيْبٍ إِلّا ابْتَلَاهُ الله ِبمثْلِ ذَلِكَ الْعَيْبِ"(جب کبھی کسی  نے کسی میں کوئی عیب نکالا تو اللہ تعالی نے اسے بھی اسی عیب میں مبتلا کیا ہے)۔

۶۔(حضرت ) ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "إِنِّيْ لَأَرَى الشَّيْءَ فَأكْرَهُهُ، فَمَا يَمْنَعُنِيْ أَنْ أَتَكَلَّمَ فِيْهِ إِلّا مَخَافَةَ أَنْ أَبْتَِلىَ بِمِثْلِهِ".(میں کسی چیز کو دیکھتا ہوں او روہ مجھے ناپسند آتی ہے تو میں اس ڈر سے اس  کے بارے میں بولنے سے رک جاتاہوں کہ کہیں میں بھی  اسی جیسی چیز میں مبتلاء  نہ  ہوجاؤں)۔

۷۔ اسی وجہ سے  اس شخص کو زجروتوبیخ (ڈاںٹ ڈپٹ) کرنے کی ممانعت وار د ہوئی ہے جس نے کسی ایسے گناہ کا ارتکاب کیاہو جس پر اسے حد  لگائی جاچکی ہو، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:"وَلَا يُثرِّبْ"(حد  جاری کردینے کے بعد اب)  اسے زناء کا  طعنہ نہ دیاجائے)۔

۸۔نیز حب ایک شخص نے شراب کےنشہ میں مست ایک شخص کو، جس پر حد لگائی جاچکی تھی ،کہا:’’اللہ تجھے رسوا کردے‘‘تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"لَا تُعِيْنُوْا عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ"(اس  پر  شیطان  کے غالب ہوجانے میں  مدد  نہ کرو(یعنی جب اللہ تعالی اسے رسوا کردے گا تو شیطان کا اس پر تسلط ہوجائے گا،اس طرح  تمہاری یہ  بد دعاء شیطان کے  اسےمزید بہکانے میں مددگار ہوگی)۔اور ان دوکے  علاوہ  اوراحادیث بھی ہیں‘‘۔

 (المقاصد الحسنة، حرف الميم، ص:660، رقم:1156، ط: دار الكتاب العربي-بيروت)

خلاصہ کلام:

"مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ :"مَا عابَ رجلٌ قطُّ بِعيبٍ إلّا ابتلاهُ الله ِبمثل ذلك العيبِ"(جب کبھی  کسی شخص   نے( کسی میں) کوئی عیب نکالا تو اللہ تعالی نے اسے بھی اسی عیب میں مبتلا کیا ہے) تو  حضرت یحیی بن جابر رحمہ اللہ کا قول ہے ، اس لیے اسے حضرت یحیی بن جابر رحمہ اللہ کے قول کی حیثیت سے بیان کیا جاسکتا ہے۔البتہ اس کے ہم معنی  الفاظ  میں مذکور حدیث :"مَن عيّر أخاهُ بِذنبٍ لم يمتْ حتّى يعملَه"(جس نے اپنے (مسلمان) بھائی کو کسی گناہ پر عار دلائی تو اس (عار دلانے  والے شخص)کو  اس وقت تک موت نہیں آئے گی جب تک کہ   وہ (عار دلانے والا شخص )بھی وہی  کام نہ کرلے)  امام ترمذی رحمہ اللہ کی تحقیق  کے مطابق ’’حسن غریب‘‘ ہےاور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے  خالد بن معدان رحمہ اللہ کا  لقاء ثابت نہ ہونے کی وجہ سے اس کی سند  منقطع  اور ضعيف ہے۔تاہم حافظ سخاوی رحمہ اللہ کی بیان کردہ تفصیل کے مطابق     مذکورہ حدیث کے  شواہد موجود ہیں، جن سے اس کےمعنی کوتائید وتقویت حاصل  ہوتی ہے ،  اس لیے حدیث:"مَن عيّر أخاهُ بِذنبٍ لم يمتْ حتّى يعملَه"(جس نے اپنے (مسلمان)  بھائی کو کسی گناہ پر عار دلائی تو اس (عار دلانے  والے شخص)کو  اس وقت تک موت نہیں آئے گی جب تک کہ   وہ (عار دلانے والا شخص )بھی وہی  کام نہ کرلے) کوبیان کیا جاسکتا  ہے۔ "

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144508100647

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں