بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 شعبان 1445ھ 01 مارچ 2024 ء

دارالافتاء

 

حدیث’’اطلبوا العلم ولو بالصین‘‘ کی تحقیق


سوال

تحقیق حدیث’’ اطلب العلم و لو بالصین‘‘ کی تحقیق مطلوب ہے،  اگر یہ حدیث ہے،  اسنادی حیثیت کیا ہے؟ اگر کسی بزرگ کا قول ہے تو اسکی وضاحت؟

جواب

یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ ملتی ہے: "اطلبوا العلم ولو بالصین". یعنی  ’’علم حاصل کرو اگرچہ تمہیں چین جانا پڑے‘‘، اور اسے امام بیہقی رحمہ اللہ نے ’’شعب الایمان‘‘ میں اور خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے ’’کتاب الرحلۃ‘‘میں اپنی سندوں کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً ذکر کیا ہے، لیکن اکابر محدثین نے ان سندوں کو ضعیف قرار دیا ہے، چناں چہ امام ابنِ حبان نے اس کو باطل قرار دیا اور امام ابنِ جوزی رحمہما اللہ نے موضوع روایات سے متعلق اپنی کتاب میں اس روایت کو بھی ذکر کیا ہے، اس لیے محدثین کے بیان کردہ قواعد کی روشنی میں اس حدیث کو بیان کرنا درست نہیں۔ 

یاد رہے کہ بعض اہلِ علم نے تاریخی واقعات وقرائن سے اس روایت کی تائید پیش کرکے اسے حدیث ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن محدثین کے ہاں جب  تک سنداً روایت کا ثبوت نہ ہو تو خارجی قرائن سے وہ ثابت قرار نہیں پاتی۔ 

مزید تفصیل کے لیے دیکھیں:

 ’’المقاصد الحسنة‘‘ للسخاوي، ’’کشف الخفاء‘‘ للعجلوني،  ’’الموضوعات‘‘ لابن الجوزي وغیره.‘‘

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144404100887

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں