بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

"رویا کرو، رونا نہ آئے تو رونے کی صورت بنالیا کرو ۔۔۔" الخ حدیث کی تشریح


سوال

اس حدیث مبارکہ کی تشریح فرما دیجیے:" ‏اگر تم دوزخ کی حقیقت جان لو تو اتنا چیخو کہ تمھاری آواز بند ہو جائے اور اس قدر نماز پڑھو کہ تمھاری کمر ٹوٹ جائے۔"

جواب

آپ نے جس حدیث  کی شرح کا مطالبہ کیا ہے، یہ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص-رضی اللہ عنہ- کا مقولہ ہے، پہلے اس کے صحیح الفاظ اور ترجمہ نقل کیا جاتا ہے، پھر شرح ذکر کی جائے گی:

الترغیب والترہیب میں ہے:

"عن ابن أبي مليكة قال: جلست مع عبد الله بن عمرو بن العاص في الحجر، فذكر حديثا، ثم قال: «ابكوا، فإن لم تجدوا بكاء فتباكوا، والذي نفسي بيده، لو أنكم تعلمون العلم لصرخ أحدكم حتى ينقطع صوته، ‌وصلى ‌حتى ‌ينكسر ‌صلبه»."

(‌‌كتاب التوبة والزهد، ‌‌الترغيب في البكاء من خشية الله تعالى، ج:4، ص:231، ط:دار إحياء التراث العربي)

ترجمہ:"ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص کے ساتھ حجر  (حطیم) میں بیٹھا تھا کہ انہوں نے ایک حدیث ذکر کی اور فرمانے لگے: رویا کرو، اگر رونا نہ آئے تو رونے والی صورت بناؤ، اس ذات کی قسم، جس کے قبضے میں میری جان ہے، اگر تم لوگ قیامت  (کے عذاب کی ہولناکی) کو جان لو تو تم میں سے (ہر)ایک اتنا چیخے کے اس کی آواز بند ہو جائے اور اس قدر نماز پڑھے کہ اس کی کمر ٹوٹ جائے۔"

تشریح:اس  میں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص-رضی اللہ عنہ- اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے ساتھیوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ کے خوف سے رونے اور گڑگڑانے کی ترغیب دے رہے ہیں، فرماتے ہیں کہ آخرت کے احوال کو تصور کرکے خوب رویا کرو، اگر دلوں میں کسی قسم کی سختی آگئی ہے اور رونا نہیں آرہا تو زبردستی رونے والی کیفیت بناؤ، پھر اللہ کی قسم کھا کر فرماتے ہیں کہ اگر تم لوگ قیامت (کے عذاب کی ہولناکی) کو جان لو اور اس پر یقین رکھ کر تصور کرو تو تم میں سے ہر شخص قیامت کی ہولناکی کو سامنے رکھ کر روتا ہی رہے گا، اتنا روئے گا کہ روتے روتے ہچکی بندھ جائے گی اور آواز بند ہو جائے گی، اور اعمال میں ایسا مشغول ہوگا کہ خوب تھک جائے گا، اعمال میں مشغول ہونے کو اس جملے سے تعبیر کیا ہے کہ وہ اس قدر نماز پڑھے گا کہ اس کی کمر ٹوٹ جائے گی۔

وضاحت:سائل نے سوال میں جن الفاظ کے ساتھ حدیث کو نقل کیا ہے، ان میں یہ جملہ:"اگر تم دوزخ کی حقیقت جان لو"، ہمیں  کہیں نہیں ملا۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144501100455

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں