بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

حدیث ماکنت تقول فی ھذا الر جل کی تشریح


سوال

قبر میں  جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سوال ہوگا کہ آپ کیا جانتے ہیں اس نبی کے بارے میں ؟تو اس وقت کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم قبر میں ظاہر ی طور پر موجود ہوں گے؟

جواب

 قبر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق جو سوال  کیاجائےگا کہ :"ماکنت تقول فی ھذا الر جل(تو اس شخص کے متعلق کیا کہتا ہے؟) ،اسکی تشریح میں شراح حدیث  سے یہ چند اقوال منقول ہیں کہ روضہ اقدس اور قبر کے درمیان سے حجابات اور پردوں کو اٹھادیا جاتا ہےیا مردے کے ذہن میں پہلے سے موجود ہوتا ہےاور اسی کی بنیاد پر وہ جواب دیتا ہےیامذکورہ سوال کے وقت میت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار کرایا جائے گا۔

نفسِ سوال جو صحیح احادیث میں وارد ہے ،صرف اسی کا اعتقاد رکھنا چاہیے، باقی کیفیت کا علم اللہ تعالی کو ہے،نہ کیفیت کے متعلق سوال ہوگا اور نہ اس کا اعتقاد رکھنا ضروری ہے۔

سنن ترمذی میں ہے:

"عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا قبر الميت، أو قال: أحدكم، أتاه ملكان أسودان أزرقان، يقال لأحدهما: المنكر، وللآخر: النكير، فيقولان: ما كنت تقول ‌في ‌هذا ‌الرجل؟ فيقول: ما كان يقول: هو عبد الله ورسوله، أشهد أن لا إله إلا الله، وأن محمدا عبده ورسوله، فيقولان: قد كنا نعلم أنك تقول هذا، ثم يفسح له في قبره سبعون ذراعا في سبعين، ثم ينور له فيه، ثم يقال له، نم، فيقول: أرجع إلى أهلي فأخبرهم، فيقولان: نم كنومة العروس الذي لا يوقظه إلا أحب أهله إليه، حتى يبعثه الله من مضجعه ذلك، وإن كان منافقا قال: سمعت الناس يقولون، فقلت مثله، لا أدري، فيقولان: قد كنا نعلم أنك تقول ذلك، فيقال للأرض: التئمي عليه، فتلتئم عليه، فتختلف فيها أضلاعه، فلا يزال فيها معذبا حتى يبعثه الله من مضجعه ذلك."

(ابواب  الجنائز، باب ما جاء في عذاب القبر، ج:2، ص:374، ط:دار الغرب الاسلامي)

تحفۃ الاحوذی میں ہے:

"(في هذا الرجل) وفي حديث أنس عند البخاري ما كنت تقول في هذا الرجل لمحمدولأحمد من حديث عائشة ما هذا الرجل الذي كان فيكم قال القسطلاني عبر بذلك امتحانا لئلا يتلقن تعظيمه عن عبارة القائل قيل ‌يكشف ‌للميت حتى يرى النبي صلى الله عليه وسلم وهي بشرى عظيمة للمؤمن إن صح ذلك، ولا نعلم حديثا صحيحا مرويا في ذلك والقائل به إنما استند لمجرد أن الإشارة لا تكون إلا للحاضر،لكن يحتمل أن تكون الإشارة لما في الذهن فيكون مجاز انتهى كلام."

(كتاب الجنائز باب ماجاء في عذاب القبر،ج:4، ص:155، ط:دارالكتب الاسلامي)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"(فيقولان: ما كنت تقول ‌في ‌هذا ‌الرجل؟) : قيل يصور صورته عليه الصلاة والسلام فيشار إليه. "(فيقولان) : أي له (ما كنت تقول) : أي: أي شيء كنت تقوله، أي: تعتقد في هذا الرجل) ، أي: في شأنه، واللام للعهد الذهني، وفي الإشارة إيماء إلى ‌تنزيل ‌الحاضر المعنوي منزلة الصوري مبالغة."

(كتاب الإيمان،باب اثبات عذاب القبر،ج:1،ص:204،ط:دارالفكر)

فتای محمودیہ میں ہے:

"سوال: یہ کہ "من ربك ؟ومادينك ومانبيك؟" کے بعدمیت کو مخاطب کرکے کہتے ہیں :وما تقول في هذا الرجل؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مجسم قبر میں تشریف لاتے ہیں؟... 3:شراح حدیث نے لکھا ہے اس کی قبر سے روضہ اقدس تک کے حجابات اٹھاکر اشارہ کیا جاتا ہے،لہذا "هذا" کا اشارہ غائب کے لیے نہیں ہوا ہے،بعض کی رائے یہ ہے کہ معہود ذہنی کی اشارہ ہوتا ہے،اور مردہ خود بخود جانتا ہےکہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے متعلق سوال ہے۔"

(کتاب الایمان والعقائد، باب مایتعلق باحوال القبور، ج:1، ص:624، ط:ادارہ الفاروق کراچی)

احسن الفتاوی میں ہے:

"سوال: قبر میں میت سے منکر نکیر دریافت کرتے ہیں،من هذا الرجل الذي بعث فیکم الخ، اس سے نبی  اکرم صلی اللہ علیہ  وسلم ہر قبر میں حاضر ہوتے ہیں یا روضہ اقدس سے قبر تک پردہ حجاب اُٹھا یاجاتاہے یا نبی کریم صلی اللہ علیہ  وسلم  کی تصویر دکھائی جاتی ہے۔بینوا تؤجروا۔

الجواب :اگرچہ احتمال یہ بھی ہے کہ قبر میں حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی صورتِ مثالیہ  پیش کی جاتی ہو یا قبراورروضہ اطہر کے درمیان سے حجاب اُٹھادیاجاتاہو مگر احادیث کے ظاہر اورتبادر عقل سے یہ معلوم ہوتاہے کہ حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کانام نامی اورصفات سامیہ  بیان کرنے کے بعد دریافت کیاجاتاہے۔"

(کتاب التفسیر والحدیث،ج:1،ص:510،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144407101419

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں