بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1445ھ 27 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

اذا ظہرت الفتن او قال البدع...الخ حدیث کی تحقیق


سوال

اس حدیث کے بارے میں معلوم کرنا ہے کہ یہ حدیث مستند ہے یانہیں؟ اگر مستند  ہے توکیاایک عام انسان جو کہ عالم بھی نہیں،  اس كے ليے  اس کی تشہیر کرنا صحیح ہے؟ حدیث درج ذیل ہے:

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌إذا ‌ظهرت ‌الفتن – ‌أو قال: البدع - وسب أصحابي فليظهر العالم علمه، فمن لم يفعل ذلك، فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين، ولا يقبل الله منه صرفا ولا عدلا."

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ؛ جب فتنے عام ہوجائیں،یا  بدعتیں ظاہر ہونے لگیں ، اور میرے صحابہ (رضی اللہ عنہ) کو گالی دی جانےلگے تو عالم کو چاہیے کہ اپنا علم ظاہر کرے، اگر ایسے موقع پر علماء نےاپنے فرض کوپورا نہ کیاتو ان پر اللہ ، فرشتوں اور پوری دنیا کی لعنت ہوگی، اللہ ان کی نفلی اور فرض کسی قسم کی عبادت کو قبول نہیں کریں گے۔‘‘

جواب

یہ حدیث متعدد کتب میں مختلف الفاظ سےمروی ہے:

1. امام ابوبکر بن خلال رحمہ اللہ تعالی (311ھ)نے"کتاب السنة" میں اپنی سند سے یہ الفاظ نقل فرمائے ہیں: 

"أخبرني حرب بن إسماعيل الكرماني، قال: ثنا أبو بكر حماد بن المبارك قال: ثنا محمد بن هيصم، قال: ثنا الوليد بن مسلم، عن ثور بن يزيد، عن خالد بن معدان، عن معاذ بن جبل، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا ظهرت البدع، وسب أصحابي، فعلى العالم أن يظهر علمه، فإن لم يفعل فعليه لعنة الله، والملائكة، والناس أجمعين، قال: قلت للوليد: وما إظهار علمه؟ قال: السنة، قال: وسئل أبو بكر بن عياش، وعباد بن العوام، فقال: السنة."

ترجمہ:

’’حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بدعتیں ظاہر ہوجائیں، اور میرے اصحاب پر سب وشتم کیا جانے لگے، تو عالم( علم رکھنے والے) پر لازم ہے کہ وہ اپنا علم ظاہر کرے، اگر اس نے ایسا نہ کیا تو اس پر اللہ تعالی، فرشتوں، اور تمام انسانوں کی لعنت ہو۔

راوی محمد بن ہیصم کہتے ہیں میں نے ولید سے دریافت کیا: علم ظاہر کرنے سے کیا مراد ہے، ولید نے جواب دیا اس سے سنت مراد ہے، اسی طرح ابو بکر بن عیاش اور عباد بن عوام سے اس کے بارے پوچھا گیا تو انہوں نے بھی یہی فرمایا کہ اس سے مراد سنت ظاہر کرناہے۔‘‘

"کتاب السنة" کی سند پر كلام:

حضرت معاذ جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے نقل کرنے والے مشہور تابعی خالد بن معدان رحمہ اللہ تعالی ہیں، ان کا سماع ، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے ثابت نہیں، لیکن ان کا حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی سے براہِ راست روایت لینا بھی محدثین کے نزدیک معتبر ہے، کیوں یہ ان کے ثقہ اور قابل اعتماد شاگردوں سے روایت لیتے ہیں۔

امام ترمذی رحمه الله تعالي (279ھ)"سنن الترمذي" میں فرماتے ہیں :

"خالد بن معدان لم يدرك معاذ بن جبل، وروي عن خالد بن معدان أنه أدرك سبعين من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، ومات معاذ بن جبل في خلافة عمر بن الخطاب، وخالد بن معدان روى عن غير واحد من أصحاب معاذ عن معاذ غیر حديث".

(سنن الترمذي، باب من أبواب صفة القيامة والرقائع والورع،تحت الرقم: 2505، 4: 242، دار الغرب الإسلامي، 1998م)

ولید بن مسلم  مدلس ہیں، اور ان کا عنعنہ قابل قبول نہیں۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی ( 852ھ) نے "طبقات المدلسين"میں انہیں مدلسین کے  چوتھے مرتبے میں شمار کیا ہے۔

(طبقات المدلسين لابن حجر، المرتبة الرابعة، ص: 51، مکتبة المنار۔ الأردن، ط:  الأولى)

اسی طرح  محمد بن ہیصم، اور حماد بن المبارک پر  مجہول ہونے کا حکم لگایا گیا ہے۔

الجرح والتعديل لابن عبد الرحمن الرازي، 8: 116، دار الأمم، ط: الأولي ، مجلس دائرة المعارف العثمانية

وميزان الإعتدال للذهبي، رقم الراوی:2272 ، 2: 157، دار الحديث القاهرة، 1432ھ 

۲- ابن رزقویہ اور خطيب بغدادی کی روایت:

محدث ابن رزقويہ رحمہ اللہ (412ھ) ا اور خطیب بغدادی رحمہ  اللہ تعالی(463ھ) محمد بن ہیصم کا متابع لائے ہیں:

"محمد بن عبد المجيد المفلوج , ثنا الوليد بن مسلم، عن ثور بن يزيد، عن خالد بن معدان، عن معاذ بن جبل، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:إذا ظهرت الفتن أو البدع وسب أصحابي فليظهر العالم علمه، فمن لم يفعل ذلك فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين، ولا يقبل الله له صرفا ولا عدلا."

ترجمہ:

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ؛ جب فتنے عام ہوجائیں،یا  بدعتیں ظاہر ہونے لگیں ، اور میرے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم  کو گالی دی جانےلگے تو عالم کو چاہیے کہ اپنا علم ظاہر کرے، جس نے ایسے موقع پر اپنا فرض کوپورا نہ کیا،تو اس پر اللہ ، فرشتوں اور پوری دنیا کی لعنت ہوگی، اللہ کسی قسم کی نفلی اور فرضی عبادت کو قبول نہیں کریں گے۔‘‘

(حديث بن رزقوية، الرقم: 2، مخطوط نشر في برنامج جوامع الكلم، ط: الأولى، 2004) 

(الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع، إملاء فضائل الصحابة، ومناقبهم..، الرقم: 1354، 2: 118، (ت: محمود طحان)،  مكتبة المعارف)

محمد بن عبد المجید المفلوج کے بارے میں حافظ ذہبی رحمه الله(  748ھ) فرماتے ہیں:

 "ضعفه محمد بن غالب تمتام."

محمد بن غالب تمتام نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے، اور پھر راوی کی منکر روایات میں اس روایت کو بھی شمار کیا ہے۔

(ميزان الإعتدال للذهبي، رقم الراوي: 7894، 5: 150، دار الحديث القاهرة، 1432ھ)

3. تاریخ ابن عساکر کی روایت:

محمد بن ہیصم اورمحمد بن عبد المجید المفلوج کا ایک اور متابع ،تاریخ ابن عساکر میں موجود ہے:

"محمد بن عبد الرحمن بن زمل الدمشقي نا الوليد نا ثور بن يزيد عن خالد بن معدان عن جبير بن نفير عن معاذ بن جبل قال قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - إذا ظهرت البدع، ولعن آخر هذه الأمة أولها فمن كان عنده علم فلينشره، فإن كاتم العلم يومئذ ككاتم ما أنزل الله على محمد - صلى الله عليه وسلم."

’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بدعتیں ظاہر ہوجائیں، اور اس امت میں بعد آنے والے پہلوں کو برا بھلا کہنے لگیں، تو جس کے پاس علم ہے اسے چاہیے کہ وہ اس کو پھیلائے، کیوں اس وقت علم چھپانا ایسا ہے جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارے گئے دین کو چھپانا۔‘‘

(تاريخ دمشق لابن عساكر، رقم الراوی: 6615، رقم الحدیث: 11366،  دار الفكر، ط: الثانیۃ، 1431ھ)

یہ سند پہلی دو سندوں سے قدرے بہتراور قوی  ہے؛ کیوں کہ اس میں خالد بن معدان اور  حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ کے درمیان  ایک ثقہ  واسطے یعنی "جبیر بن نفیر"کی صراحت  ہے، اسی طرح  الولید بن مسلم کا ثور بن یزید سے سماع کی بھی صراحت ہے، لیکن محمد بن عبد الرحمن زمل کے حالات میں جرح و تعدیل میں سے کوئی قول منقول نہیں۔ابن عساکر رحمہ اللہ تعالی (571ھ) نے ان کے حالات لکھے ہیں،  لیکن جرح وتعدیل میں کسی چیز کی صراحت نہیں کی، لہذا اس سند سے روایت  بیان کرنے میں حرج نہیں۔اس حوالے سے بعض دیگر روایات بھی ہیں، لیکن ان کا ضعف شدید ہے۔

  فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144403102144

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں