بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

حدیث قرطاس اور اس کی آڑ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر لگائے گئے الزامات کا جائزہ


سوال

 حدیثِ قرطاس کی وضاحت فرما دیں اور ایک مذہب اس کی آڑ میں صحابہ کرام کو برا کیوں کہتا ہے؟

جواب

جامعہ کے ترجمان رسالہ ماہنامہ بینات کے سابق مدیر حضرت مولانا سعید احمد جلال پوری شہید رحمہ اللہ نے رجب المرجب 1431ھ کے شمارے میں مولانا محمدنافع رحمہ اللہ کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں ’’حدیث قرطاس اور اہل سنت کا موقف‘‘ کے عنوان سے مفصل و مدلل جواب تحریر فرمایا تھا، آپ کے سوال کے جواب میں حضرت رحمہ اللہ کا لکھا ہوا جواب ہی من و عن نقل کیا جارہا ہے۔

’’روزِ اول سے اہل تشیع ’’حدیث قرطاس‘‘ کے حوالے سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر کیچڑ اچھالتے آرہے ہیں اور اکابر اہل سنت نے ہر زمانے میں اس کا مفصل و مدلل جواب دیا ہے، واقعۂ قرطاس کا آسان اور عام فہم انداز میں جن جن حضرات نے جواب لکھا ہے، ان میں سے حضرت اقدس مولانا محمد نافع محمدی شریف جھنگ نے اپنی کتاب ’’فوائد نافعہ‘‘ میں اس کا بہت ہی عمدہ جواب دیا ہے، بہتر ہوتا کہ آپ اس کے ص:166 سے 199 کا مطالعہ فرمالیتے۔تاہم آسانی کے لیے اس سے اور دوسرے اکابر کی تصانیف میں سے چند اقتباسات یہاں نقل کیے دیتا ہوں، ملاحظہ ہوں:

اول:

آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مرض وفات کے آخری دنوں ربیع الاول کے پہلے عشرہ یوم الخمیس شدتِ مرض میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرطاس طلب فرمایا، چنانچہ اسی سلسلہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ملاحظہ ہو:

"حدثنا ابن عيينة، عن سليمان الأحول، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس قال: يوم الخميس وما يوم الخميس ‌يوم ‌اشتد برسول الله صلى الله عليه وسلم وجعه فقال: «ائتوني أكتب لكم كتابا لا تضلون بعده». - فتنازعوا ولا ينبغي عند نبي تنازع - قال: «دعوني فما أنا فيه خير مما تسألون عنه». قال: أمرهم بثلاث: قال: «أخرجوا المشركين من جزيرة العرب، وأجيزوا الوفد بنحو ما كنت أجيزهم...الخ."

(مسند أبي يعلى، 4/ 298، الرقم: 2409، ط: دار المأمون للتراث - دمشق)

یعنی ’’حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ خمیس کا دن کیا ہے؟ خميس كایوم وہ ہے کہ جس میں جناب اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا درد شدت اختیار کر گیا تو اپنے حاضرینِ مجلس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: (قرطاس) لاؤ، میں تمہیں ایسی چیز لکھ دوں جس کے بعد تم گمراہ نہیں ہو گے، (اس پر حاضرین مجلس میں) اختلاف اور تنازع ہوا، جبکہ نبی اقدس کے پاس تنازع مناسب نہیں، توآں جناب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے چھوڑیے، میں جس حالت میں ہوں وہ اس سے بہتر ہے جس کے متعلق تم مجھ سے سوال کرتے ہو ، پھر آں جناب صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کے متعلق حکم فرمایا کہ: جزیرۃ العرب سے مشرکین کو نکال دو اور وفود کے ساتھ بہتر سلوک کرو...‘‘

اسی خمیس کے روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت سنبھل گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں متعدد اہم امور ارشاد فرمائے۔ سوال یہ ہے کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم قرطاس کے ذریعه خلافت علی (كرم الله وجهه) سے متعلق کوئی دستاویز لکھوانا چاہتے تھے اور حضرت عمررضي الله عنه نے قرطاس نہ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خطبہ میں اس کا اعلان کیوں نہ فرمایا؟

دوم:

آپ صلی اللہ عليہ وسلم نے خميس کےدن قرطاس کا مطالبہ فرمايا اور اس کے بعد تقریباً چار دن تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم بقیدِ حیات رہے اور آئندہ سوموار کو انتقال فرماکر رفیقِ اعلیٰ سے جاملے، سوال یہ ہے کہ ان چار دنوں میں معارضہ کرنے والے لوگ کبھی نہ کبھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے الگ ہوئے ہوں گے اور تخلیہ کے مواقع بھی میسر آئے ہوں گے تو ان اوقات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خلافت علی (کرم اللہ وجہہ) کی وہ تحریر کیوں نہ لکھوائی؟ اور اس مسئلہ کو کنارے کیوں نہ لگایا؟ چنانچہ علامہ بیہقی رحمہ اللہ نے دلائل النبوۃ میں اس کو بایں عبارت لکھا ہے:

"ولو كان ما يريد النبي صلى الله عليه وسلم أن يكتب لهم شيئا ‌مفروضا، لا يستغنون عنه. لم يتركه باختلافهم ولغطهم لقول الله عز وجل «بلغ ما أنزل إليك من ربك» كما لم يترك تبليغ غيره بمخالفة من خالفه، ومعاداة من عاداه."

(‌‌باب ما جاء في همه بأن يكتب لأصحابه كتابا، 7/ 184، ط:دارالكتب العلمية)

ترجمہ: ’’اگر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی واجب امر جس کے بغیر کوئی چارہ نہ تھا کے لکھوانے کا ارادہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے باہمی اختلاف اور شور کرنے کی وجہ سے اسے ترک نہیں فرماسکتے تھے، کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ : تمھارے رب کی طرف سے جو چیز تمھاری طرف نازل کی گئی ہے، اس کو پہنچائیے، جیساکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخالفین کی مخالفت اور دشمنوں کی دشمنی کی وجہ سے تبلیغ دین کا عمل کبھی ترک نہیں فرمایا تھا۔‘‘

اس سے واضح ہوا کہ قرطاس منگوانے اور کچھ لکھنے سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خلافت کی سند اور دستاویز لکھوانا مقصود نہیں تھا، بلکہ دوسرے اہم امور تھے، جن کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد کے خطبات میں اس کا اظہار و اعلان فرما دیا، اگر خلافت علی کرم اللہ وجہہ لکھوانا مقصود ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور بعد کے ایام میں اس کی تحریر لکھوا دیتے یا کم از کم اپنے خطبات میں اس کا اعلان فرما دیتے، کیونکہ ارشاد الہی "بلغ ما أنزل إليك من ربك"کا تقاضہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر حال میں اس کا اعلان و اظہار فرما دیتے۔ واللہ اعلم

سوم:

جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قرطاس کے مطالبہ پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف کے پیشِ نظر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف سے بچانے کے لیے قرطاس دینے کی ضرورت نہیں سمجھی، اسی طرح حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قرطاس نہ دینے کا عمل دہرایا تھا، ملاحظہ ہو:

 "عن علي بن أبي طالب قال: أمرني النبي - صلى الله عليه وسلم - أن آتيه ‌بطَبَق يكتب فيه ما لا تَضل أمتُه من بعده، قال فخشيت أن تفوتني نفسُه، قال: قلت: إني أحفظَ وأَعي، قال: أُوصي بالصلاة والزكاة وما ملكت أيمانكم."

(مسند أحمد، 1/ 468، الرقم: 693، دارالحديث القاهرة)

ترجمہ: ’’حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ (مرض وفات کے دوران) ایک مرتبہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے طبق (قرطاس) لانے کےلیے ارشاد فرمایا تاکہ اس میں وہ بات تحریر کردیں جس سے امت آپ کے بعد گمراہی میں نہ پڑے، حضرت علی فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت کی پریشانی دیکھ کر مجھے خوف ہوا کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا میری عدم موجودگی میں انتقال نہ ہوجائے، تو میں نے عرض کیاکہ: آپ ارشاد فرمائیں، میں اس فرمان کو محفوظ کروں گا اور نگاہ میں رکھوں گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز، زکات کی ادائیگی اور غلاموں ، لونڈیوں کے بارہ میں نیک سلوک کی وصیت فرمائی۔‘‘ 

اس روایت سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ جو کام قرطاس نہ دینے کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کیاتھا، ٹھیک وہی کام حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے بھی کیا تھا، اگر اس کی وجہ سے حضرت علی مطعون قرار نہیں قرار پاتے تو حضرت عمر پر اس کی وجہ سے کیوں طعن و تشنیع کیا جاتا ہے؟

چلیے! اگر اس کی وجہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ مطعون قرار پاتے ہیں تو اہل تشیع اس سلسلہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارہ میں کیا فتوی صادر فرمائیں گے؟

چہارم:

اگر تعصب و عنادکی عینک اتار کر دیکھا جائے تو اندازہ ہوگا کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالبۂ قرطاس کے باوجود حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرطاس نہ دینا دراصل اسی محبت و عقیدت کی وجہ سے تھا جس کی بنا پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے صلح حدیبیہ کے موقع پر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صریح اور واضح حکم کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے ’’رسول اللہ‘‘ کا لفظ مٹانے سے انکار کیا تھا، اگر اس موقع پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ عمل قابلِ ملامت نہیں بلکہ زیادتی محبت و عقیدت کا مظہر تھا، تو اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف کی شدت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو راحت پہنچانا کیونکر باعثِ طعن و تشنیع ہے؟

پنجم:

اس سب سے ہٹ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا واقعۂ قرطاس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امامت نماز کے لیے حکم دینا اور یہ فرمانا کہ: "يأبى الله والمؤمنون إلا أبابكر"(أبوداؤد، كتاب السنة، باب في استخلاف أبي بكر رضي الله عنه، 2/ 258)یعنی اللہ تعالی اور اہل ایمان ابوبکر کے سوا سب کا انکار کرتے ہیں، کیا اس کی واضح دلیل نہیں کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قرطاس کا مطالبہ کرنا، خلافت علی کی دستاویز لکھوانے کے لیے نہیں تھا، امید ہے کہ یہ چند معروضات آپ کی تشفی کے لیے کافی ہوں گی۔‘‘

(ماخوذ: ماہنامہ بینات، رجب المرجب 1431ھ ، عنوان: حدیث قرطاس اور اہل سنت کا موقف)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144505101754

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں