بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

عبادت میں اللہ تعالی کا تصور کیسے کیا جائے کہ ذہن ادھر ادھر نہ بھٹکے؟


سوال

مجھے ایک بات پوچھنی ہے کہ ہمیں نماز پڑھتے ہوئے یا کوئی اور عبادت کرتے ہوئے اللہ کا کیا تصور کرنا  چاہیے، مطلب ظاہر ہے ہم نے اللہ کو دیکھا تو نہیں ہے ان شاءاللہ ،  اللہ کا دیدار  ہم جنت میں  کریں گے،  لیکن ابھی ہمیں عبادت کرتے ہوئے کیا تصور کرنا  چاہیے میں عبادت کر رہی ہوتی ہوں تو میرے ذہن میں جنات انسانوں کی شکلیں آتی اور میں بہت کوشش کرتی کہ یہ تصور کروں کہ اللہ ہے تو مجھے وساوس آتے کہ اللہ  کی  کیسے عبادت کریں جب کہ وہ نظر نہیں آتا تو اس صورت میں میں کیا کروں نیز وساوس سے بچاؤ کی کوئی دعا یا طریقہ بتا دیں!

جواب

صورتِ  مسئولہ  میں بھی اللہ تعالیٰ کی ذات کا تصور کرنے  کے بجائے اللہ تعالیٰ کی صفات میں غور کرنے کے  ساتھ ساتھ نماز میں کی جانے والی تلاوت اور ذکر وغیرہ کی طرف دھیان جمایا جائے؛ کیوں کہ قرآن پاک کی تلاوت اور اللہ تعالیٰ کی تعظیم پر مشتمل ذکر کی طرف دھیان دینا اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے کے حکم میں ہی ہے، باقی پوری نماز کے ہر رکن میں اللہ تعالیٰ کی ذات کا تصور کیے بغیر اس بات کا دھیان جمانا  چاہیے کہ  میں اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہوں  اور اللہ تعالیٰ میری نماز کو دیکھ رہے ہیں کہ میں کیسے نماز پڑھ رہا ہوں۔

حدیثِ پاک میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ "احسان" یہ ہے کہ  تم اللہ کی اس طرح عبادت کرو، گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو۔۔۔ الخ"  اس کا مطلب یہی ہے کہ  عبادت کرنے والا اتنی توجہ، دھیان اور خلوص سے عبادت کرے گویا کہ وہ اللہ تعالی کو دیکھ رہا ہے، یعنی حقیقت میں تو نہیں دیکھ رہا، نہ ہی دنیا کے دائرے میں رہتے ہوئے ان فانی نگاہوں سے دیکھ سکتاہے، بلکہ یہ سوچے کہ گویا اگر وہ اللہ تعالیٰ کو  دیکھ  سکتا تو اس کی توجہ و استحضار  اور ایمان کس  کامل درجے کا ہوتا!!  بس اتنی ہی توجہ و دھیان سے نماز پڑھے، اور اگر یہ نہیں کرسکتا تو یہ تصور  ہو کہ "اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہوں یا اللہ تعالیٰ  مجھے دیکھ رہے ہیں"، اور اس تصور کے  لیے جسم کا تصور لازم نہیں ہے، جیساکہ آپ نے سوچ اور سمجھ لیا ہے، بلکہ یہ تصور بلا جسم و حدود کے بھی باندھا جاسکتاہے۔

لہذا ان خیالات اور وسوسوں سے پریشان نہ ہوں ، اور ان کا علاج یہ ہے کہ ان کی طرف بالکل دھیان نہ دیا جائے،   اور دل میں جگہ نہ دی جائے، ان کے مقتضی پر عمل یا لوگوں کے سامنے ان کا اظہار نہ ہو، بلکہ ان کا خیال جھڑک کر ذکر  اللہ کی کثرت کا اہتمام کرنا چاہیے۔

حدیث شریف میں ہے:

"عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " يأتي الشيطان أحدكم فيقول: من خلق كذا؟ من خلق كذا؟ حتى يقول: من خلق ربك؟ فإذا بلغه فليستعذ بالله ولينته"

(کتاب الایمان، باب الوسوسۃ، ج: ۱، صفحہ: ۲۶، رقم الحدیث: ۶۵، ط: المکتب الاسلامی)

 "ترجمہ: ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے تو کہتا ہے کہ اس طرح کس نے پیدا کیا؟ اس طرح کس نے پیدا کیا؟  یہاں تک کہ وہ کہتا ہے کہ تیرے رب کو کس نے پیدا کیا؟ تو جب وہ یہاں تک پہنچے تو اللہ سے پناہ مانگو اور اس وسوسہ سے اپنے آپ کو روک لو"۔

لہذا ان وسوسوں کے علاج کے لیے مذکورہ نسخہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کیا جائے، اور ساتھ ساتھ  مندرجہ ذیل  اعمال کریں:

(1)  أعُوذُ بِالله (2)" اٰمَنْتُ بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِه" کا  ورد کرے۔ (3)  "هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْم"  (4) نیز  "  رَّبِّ اَعُوْذُبِکَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِ وَاَعُوْذُ بِکَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ" کا کثرت سے ورد بھی ہر طرح کے شیطانی شکوک ووساوس کے دور کرنے میں مفید ہے۔

حدیث شریف میں ہے:

"حدثنا مسدد قال حدثنا إسماعيل بن إبراهيم أخبرنا أبو حيان التيمي عن أبي زرعة عن أبي هريرة قال: كان النبي صلى الله عليه و سلم بارزا يوما للناس فأتاه جبريل فقال ما الإيمان؟ قال (أن تؤمن بالله وملائكته وبلقائه ورسله وتؤمن بالعبث) قال ما الإسلام؟ قال (الإسلام أن تعبد الله ولا تشرك به وتقيم الصلاة وتؤدي الزكاة المفروضة وتصوم رمضان) قال ما الإحسان؟ قال (أن تعبد الله كأنك تراه فإن لم تكن تراه فإنه يراك) قال متى الساعة؟ قال (ما المسؤول عنها بأعلم من السائل وسأخبرك عن أشراطها إذا ولدت الأمة ربها وإذا تطاول رعاة الإبل البهم في البنيان في خمس لا يعلمهن إلا الله) ثم تلا النبي صلى الله عليه و سلم {إن الله عنده علم الساعة} الآية ثم أدبر فقال (ردوه) فلم يروا شيئا فقال (هذا جبريل جاء يعلم الناس دينهم)قال أبو عبد الله جعل ذلك كله من الإيمان". 

(باب سؤال جبريل النبي صلى الله عليه و سلم عن الإيمان والإسلام والإحسان وعلم الساعة، ج: ا، صفحہ: 27، رقم الحدیث: 50، ط: : دار ابن كثير، اليمامة - بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144508100324

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں