بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1445ھ 27 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

حالت کفر کے نمازوں کی قضاء لازم نہیں


سوال

ہدایت ملنے كے بعد جو ہم ماضی  میں نمازیں چھوڑ چکے ہیں ،اور اس کو کافی ٹائم  ہو چکا ہے؟ تو کیا ہم وہ نمازیں قضا کر كےپڑھیں ؟

یا تو ان نماز کی معافی مانگیں ؟

جواب

 اگر ہدا یت ملنے سے مراد اسلام کی ہدایت ہو،تو  مسلمان ہوجانے کے بعد  حالت کفر کی نمازوں کی قضا واجب نہیں ہے۔

اور اگر ہدایت سے مراد  کسی مسلمان کا گناہوں کی زندگی چھوڑ کر راہ راست پر آنا ہو، تو  ماضی کے   قضا نمازوں کی ادائیگی  لازم ہے، البتہ وقت پر نماز نہ پڑھنے کا جو گناہ ہوا وہ سچی توبہ سے معاف ہوسکتا ہے،اس  کی ادائیگی انسان پر لازم اور ضروری ہے، چاہے وہ نمازیں جان بوجھ کر قضا کی ہوں یاکسی عذر کی وجہ سے یا بھولے سے قضا ہوگئی ہوں، صرف توبہ کرلینے سے قضا  نمازیں ہرگز  معاف نہیں ہوتیں ۔

نیز جب زیادہ وقت گزرا ہے، اور یاد نہیں ہے تو اس حوالے سے تفصیل یہ ہے، کہ قضا نمازیں پہلے اپنی رائے اورخیال غالب سے متعین کرلینی چاہییں، اورجتنے سالوں یامہینوں کی نمازیں قضاہوئی ہیں انہیں تحریرمیں لے آئے ،پھرقضاکرتے وقت یہ نیت کرے کہ سب سے پہلے جوفجریاظہر وغیرہ رہ گئی وہ قضاکرتاہوں،اسی طرح پھر دوسرے وقت نیت کرے ۔اسی طرح ایک دن کی تمام فوت شدہ نمازیں ایک وقت میں پڑھ لے یہ بھی درست ہے۔ نیزایک آسان صورت فوت شدہ نمازوں کی ادائیگی کی یہ بھی ہے کہ ہروقتی فرض نمازکے ساتھ  اس وقت کی ایک فوت شدہ نمازقضاکی نیت سے بھی پڑھ لیاکرے ،جتنے برس یاجتنے مہینوں کی نمازیں قضاہوئی ہیں، اتنے سال یامہینوں تک اداکرتارہے۔

ارشاد ربانی ہے

"إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً" (النساء:103)  

 ترجمہ:’’یقیناً نمازمسلمانوں پرفرض ہے اورقت کے ساتھ محدود ہے۔‘‘(بیان القرآن)

صحیح ابن خزیمہ  میں بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد مبارک ہے:

"عن ابن شماسة قال: حضرنا عمرو بن العاص، وهو في سياقة الموت، فبكى طويلا، وقال: فلما جعل الله الإسلام في قلبي أتيت النبي صلى الله عليه وسلم، فقلت: يا رسول الله ابسط يمينك لأبايعك، فبسط يده، فقبضت يدي، فقال: «ما لك يا عمرو؟» قال: أردت أن أشترط قال: «تشترط ماذا؟» قال: أن يغفر لي قال: «أما علمت يا عمرو أن ‌الإسلام ‌يهدم ما كان قبله، وأن الهجرة تهدم ما كان قبلها، وأن الحج يهدم ما كان قبله»."

(كتاب المناسك،ج:4،ص:131،الرقم:2515،ط:المكتبةالإسلامي)

عمدۃ القاری میں ہے:

"كل مشرك أسلم أنه يكتب له كل خير عمله قبل إسلامه ولا يكتب عليه من سيئاته شيء، لأن ‌الإسلام ‌يهدم ما قبله، وإنما كتب له به الخير لأنه أراد به وجه الله تعالى، لأنهم كانوا مقرين بالربوبية، إلا أن عملهم كان مردودا عليهم لو ماتوا على شركهم، فلما أسلموا تفضل الله عليهم فكتب لهم الحسنات ومحا عنهم السيئات."

(كتاب الزكوة،باب من تصدق في الشرك ثم اسلم،ج:8،ص:303،ط:دارالفكر)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"باب قضاء الفوائت لم يقل المتروكات ظنا بالمسلم خيرا، إذ التأخير بلا عذر كبيرة لا تزول بالقضاء بل بالتوبة.

قوله بل بالتوبة) أيبعد القضاء أما بدونه فالتأخير باق، فلم تصح التوبة منه لأن من شروطها الإقلاع عن المعصية كما لا يخفى فافهم. "

(کتاب الصلاۃ، ج:2، ص:62، ط:ایچ ایم سعید)

فیہ أیضاً: 

"كثرت الفوائت نوى أول ظهر عليه أو آخره.

(قوله: كثرت الفوائت إلخ) مثاله: لو فاته صلاة الخميس والجمعة والسبت فإذا قضاها لا بد من التعيين، لأن فجر الخميس مثلاً غير فجر الجمعة، فإن أراد تسهيل الأمر، يقول: أول فجر مثلاً، فإنه إذا صلاه يصير ما يليه أولاً، أو يقول: آخر فجر، فإن ما قبله يصير آخراً، و لايضره عكس الترتيب؛ لسقوطه بكثرة الفوائت".

(باب قضاء الفوائت، فروع في قضاء الفوائت، ج:2،ص: 76، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144503102251

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں