بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1444ھ 08 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

حاکم کی اپیل پر نفلی روزہ رکھنے کا حکم


سوال

گزشتہ پیر کو  وزیر اعظم آزاد کشمیر نے قوم سے نفلی روزہ رکھنے اور توبہ استغفار کا کہا جس پر بہت سے لوگوں نے روزہ رکھا ، البتہ کچھ لوگوں نے اس روزے کو ناجائز کہا، کیا حاکم کے کہنے پر روزہ رکھنا یا دین کا کوئی اور عمل کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

اگر حاکم قوم سے نفلی روزہ رکھنے یا کوئی اور نیک عمل کرنے کی اپیل کرے؛ تاکہ توبہ و استغفار و اعمال کی برکت سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوا عذاب ہٹ جائے تو حاکم کی بات مانتے ہوئے نفلی روزہ رکھنا جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ حاکم کسی پر زبردستی نہ کرے ۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108200355

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں