بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 جُمادى الأولى 1445ھ 10 دسمبر 2023 ء

دارالافتاء

 

گزشتہ سال کی زکاۃ کس حساب سے دی جائے گی؟


سوال

ہمارا زیورات بنانے کا کاروبار ہے،ہم ہر سال 10شوال کو اپنی زکوٰۃ کے مال کا حساب لگاتے ہیں،ہمارا جو مال بڑھتا ہے وہ سونے کی صورت میں ہوتاہے،دس شوال کو سونے کی جو قیمت ہوتی ہے ہم اس سےرقم بناکر زکوٰۃ دیتے ہیں، جوکہ ہم شعبان اور رمضان میں پیشگی دینے کی کوشش کرتے ہیں،اور جو بچ جاتی ہے وہ پورے سال میں مختلف اوقات میں ہم ادا کرتے ہیں،اس مرتبہ 10شوال 2020 میں ہم نے حساب نہیں لگایا تھا لیکن زکوٰۃ کی رقم تقریباً 70فیصد ادا کرچکے ہیں،اب ہم نے 10 شوال 2021 کا حساب لگایا ہے،اب پوچھنا یہ ہےکہ:

1۔ہم ان دوسالوں کا حساب ایک ساتھ 2021 کے اعتبار سے کریں یا دونوں سالوں کا الگ الگ حساب لگائیں؟ کیوں کہ سونے کی قیمت 2020 میں فی تولہ ایک لاکھ تھی تو 2021 میں فی تولہ ایک لاکھ پچیس ہزار  روپے کا ہے۔

2۔سال پورا ہونے سے پہلے زکوٰہ اداکرنا درست ہے یا نہیں؟

جواب

1۔ واضح رہے کہ سونے کی زکوٰة، خواه گزشتہ سالوں کی ہو یا موجودہ سال کی، جس دن زکوٰة ادا کی جائے گی، اسی دن کی قیمت کے حساب سے پہلےگزشتہ سال کی زکوۃ ادا کی جائےگی،پھر اس کے بعد جو رقم باقی رہے گی اس سے دوبارہ  موجودہ سال کی زکوٰة ادا کی جائے گی، کیوں کہ سونے اور چاندی میں اصل یہ ہے کہ جب ان کا نصاب مکمل ہوجاے، تو اس نصاب میں سے سونا چاندی کا چالیسواں حصہ دیا جائے، چالیسویں حصے کی قیمت اس کے متبادل کے طور پر دی جاتی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں دونوں سالوں کی زکوٰۃ 2021 کی قیمت کے اعتبار سے ادا کی جائے۔

2۔صاحب نصاب کے لیے سال پورا ہونے سے پہلے بھی زکوٰۃ  ادا کرنا جائز ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے؛

"لأن الواجب الأصلي عندهما هو ربع عشر العين وإنما له ولاية النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء، والصحيح أن هذا مذهب جميع أصحابنا."

(كتاب الزكاة ج:2،ص:22،ط:سعيد)

وفيه ايضا:

"وأما حولان الحول فليس من شرائط جواز أداء الزكاة عند عامة العلماء، وعند مالك من شرائط الجواز فيجوز تعجيل الزكاة عند عامة العلماء خلافا لمالك."

(كتاب الزكاة ج:2،ص:50،ط:سعيد)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144307100736

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں