بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 جنوری 2021 ء

دارالافتاء

 

گزشتہ سالوں میں سونے کی زکوة ادا نہ کی ہو تو اب کس قیمت کا اعتبار ہوگا؟


سوال

اگر کسی نے پچھلے سالوں میں  سونے کی زکوٰۃ ادا نہیں کی اور اب دینا چاہتا ہے،  تو  کیا  پچھلے سالوں کے سونے کا ریٹ لگے گا یہ آج کا سونے کا ریٹ کا حساب ہو گا؟

جواب

اگر گزشتہ سالوں میں بقدرِ نصاب سونا ہونے کے باوجود   زکات ادا نہ کی ہو  تو ایسی صورت میں اب   جس دن زکوۃ ادا کی جائےاس دن سونے  کی جو قیمت ہو   اس کا اعتبار ہو گا، یعنی گزشتہ سالوں کی زکوۃ سونے کے  موجودہ ریٹ کے حساب سے ادا کی جائے گی۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع  میں ہے:

"وإنما له ولاية النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء، والصحيح أن هذا مذهب جميع أصحابنا".

( كتاب الزكوة، فَصْلٌ صِفَةُ الْوَاجِبِ فِي أَمْوَالِ التِّجَارَةِ، ٢ / ٢٢، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109201443

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں