بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 ذو الحجة 1445ھ 15 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

غسل میں دانتوں کے پیلے پن کا حکم


سوال

مسوڑھوں پر کالاپن یا پکا (پیلا) میل جم جائے اور آسانی سے صاف کرنے سے نہ نکلیں تو اس صورت میں غسل کا حکم۔

جواب

واضح رہے کہ مسوڑھوں پر  کالا یا پیلا پن اس طرح جم جائے کہ سخت چیز سے بھی صاف نہ ہو تو اس کو دور کرنا ضروری نہیں،لہذا صورتِ مسئولہ میں  غسل میں  صرف  دانتوں اور مسوڑھوں پر پانی بہادینا کافی ہے، کالے پن یا پیلے پن کو دور کرنا ضروری نہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

‌"(ويجب) ‌أي ‌يفرض (‌غسل) كل ما يمكن من البدن بلا حرج."

(کتاب الطہارۃ، فرض الغسل، ج:1، ص:152، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144410101406

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں