بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

غسل کے دوران ریح کا خارج ہونا


سوال

غسل کے درمیان ریح کے نکلنے سے دوبارہ غسل لازم ہوگا؟

جواب

اگر غسل کے دوران ریح خارج ہوجائے تو اس سے غسل ختم نہیں ہوتا ، اور دوبارہ غسل کرنا لازم نہیں ہوتا۔ البتہ ریح کے خارج ہونے سے وضو ٹوٹ جاتاہے، اور وضو کرنا ضروری ہے۔

نیز غسل کے دوران ریح خارج ہوجائے اور ریح کے خروج کے بعد اعضائے وضونہ دھوئے  یا ان پر پانی نہ بہایا ہو تویہ غسل نماز وغیرہ کے لیے کافی نہ ہوگا، بلکہ اس غسل کے بعد  عبادات کے لیے وضو کرنا ضروری ہوگا۔ فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144109200312

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے