بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

گردوں کے مریض کے لیے روزے کا حکم


سوال

مجھے گردوں کی بیماری ہے ،جس کی وجہ سے ڈاکٹرنے روزہ رکھنے سے روکا ہے ،میرےلیے شریعت  کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر آپ کو  گردے  کی تکلیف کی وجہ سے روزہ رکھنے کی قدرت نہیں ہے، اور دیندار ماہر ڈاکٹر نے بھی  روزے سے منع کیا ہو،  اور مستقبل میں بھی آپ کے لیے روزہ رکھنا ممکن نہیں ہے  تو  ایسی صورت میں فی روزہ ایک فدیہ (ایک صدقہ فطر کی مقدار یعنی تقریباً پونے دو کلو گندم یا اس کا آٹا یا اس کی قیمت)  ادا کرنا آپ پر لازم ہوگا، اور فدیہ کا مصرف زکات کے مستحق افراد ہیں،  اگر آپ کے قریبی رشتہ داروں میں کوئی مستحقِ زکات ہو تو اسے فدیہ دینا دُھرے اجر کا باعث ہوگا، اور اگر قریبی رشتہ داروں میں کوئی مستحق نہ ہو، تو کسی بھی مستحقِ زکات کو دینے سے بھی فدیہ ادا ہوجائے گا۔  تاہم اگر مستقبل میں کبھی آپ کو صحت مل جائے اور روزہ رکھنے پر قادر ہوجائیں تو جتنے دن قدرت حاصل ہوگی اتنے دنوں کے روزوں کی قضا کرنا ضروری ہوگا۔ اور اگر  فی الوقت آپ ایک ایک دو دو کرکے روزے رکھ سکتے ہیں، تو جس قدر ہوسکے روزے رکھ لیجیے، جب تکلیف نا قابلِ برداشت ہو تو وقفہ کرلیجیے، اور جو روزے چھوٹ جائیں ان کی وقتاً فوقتاً قضا کرلیجیے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"وبقي الإكراه وخوف هلاك أو نقصان عقل ولو بعطش أو جوع شديد ولسعة حية (لمسافر) سفراً شرعياً.
(قوله: وخوف هلاك إلخ) كالأمة إذا ضعفت عن العمل وخشيت الهلاك بالصوم، وكذا الذي ذهب به متوكل السلطان إلى العمارة في الأيام الحارة والعمل حثيث إذا خشي الهلاك أو نقصان العقل. وفي الخلاصة: الغازي إذا كان يعلم يقيناً أنه يقاتل العدو في رمضان ويخاف الضعف إن لم يفطر أفطر، نهر".

(کتاب الصوم، فصل في العوارض المبيحة لعدم الصوم ،ج:2،ص:421،ط:سعید)

فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144309100499

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں