بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 محرم 1446ھ 13 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

گردوں کی بیماری کی وجہ سے روزے رکھنے پر قدرت نہ ہونے کا حکم


سوال

ہمارے بیٹے  کو گزشتہ سال اچانک گردے کی بیماری ہو گئی، اس سے پہلے وہ بالکل ٹھیک تھے ،بیماری CKD ہے، اس میں گرد سکڑ جاتے ہیں، ڈاکٹر کے مطابق پانی اور دوائی دونوں کا استعمال ضروری ہے،  ان کے لیے روزے کا طریقہ کار کیا ہوگا؟  بیٹا روزے رکھنا  چاہتا ہے، لیکن فی الحال رکھنا مشکل ہے، ڈاکٹر منع کر رہے ہیں، اگر روزے نہیں رکھ سکتے تو ان کا فدیہ کیا ہوگا ؟

جواب

واضح  رہے کہ روزےکا فدیہ صرف اُس شخص پر ہے جو نہ تو فی الحال روزہ رکھنے پر قادر ہے اور نہ آئندہ موت تک اُس کو یہ امید ہے کہ وہ روزہ رکھ سکے، جیسا کہ شیخِ فانی (بڑی عمر کا ایسا شخص  جس کی موت ظاہراً  قریب ہو)۔

لیکن اگر کوئی شخص کسی وقتی عذر یا بیماری کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکتا ہو تو یہ شخص عذر اور بیماری زائل ہونے کے بعد چھوٹے ہوئے روزوں کی قضاء کرے گا، چنانچہ اگر گردے کا مریض پانی اور دوائی کا استعمال ضروری ہونے کی وجہ سے فی الحال روزہ رکھنے پر قادر نہ ہو اور ڈاکٹر نے روزہ رکھنے سے منع کردیا تو اس کے لیے رمضان کے روزے چھوڑنا جائز ہے، البتہ جب بھی بیماری سے افاقہ ہونے کی وجہ سے وہ روزے رکھنے پر قادر ہوگیا تو اس پر چھوڑے ہوئے روزوں کی قضا رکھنالازم ہوگا، لیکن اگر گردوں کا مریض فی الحال بھی روزہ رکھنے پر قادر نہیں اور مستقبل میں بھی روزہ رکھنے کی قدرت حاصل ہونے کے امکانات نہ ہوں تو ایسا مریض ہر روزہ کے بدلے ایک صدقہ فطر کے برابر فدیہ ادا کرے گا، لیکن اگر فدیہ ادا کرنے کے بعد وہ کبھی بھی روزہ رکھنے پر قادر  ہو گیا تو اس کے ذمہ روزوں کی قضاء  لازم ہوگی، ایسی صورت میں ادا کردہ فدیہ نفلی صدقہ بن جائے گا۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما وجوب الفداء: فشرطه العجز عن القضاء عجزا لا ترجى معه القدرة في جميع عمره فلا يجب إلا على الشيخ الفاني، ولا فداء على المريض والمسافر ولا على الحامل والمرضع وكل من يفطر لعذر ترجى معه القدرة لفقد شرطه وهو العجز المستدام، وهذا لأن الفداء خلف عن القضاء، والقدرة على الأصل تمنع المصير إلى الخلف كما في سائر الأخلاف مع أصولها، ولهذا قلنا: إن الشيخ الفاني إذا فدى ثم قدر على الصوم بطل الفداء."

(كتاب الصوم، فصل حكم الصوم المؤقت إذا فات عن وقته، 105/2، ط: سعيد)

و فیه ایضاً:

"وأما بيان شرائط وجوبه فمنها القدرة على القضاء حتى لو فاته صوم رمضان بعذر المرض أو السفر ولم يزل مريضا أو مسافرا حتى مات لقي الله ولا قضاء عليه، لأنه مات قبل وجوب القضاء عليه، لكنه إن أوصى بأن يطعم عنه صحت وصيته وإن لم يجب عليه، ويطعم عنه من ثلث ماله لأن صحة الوصية لا تتوقف على الوجوب كما لو أوصى بثلث ماله للفقراء أنه يصح، وإن لم يجب عليه شيء كذا هذا فإن برئ المريض أو قدم المسافر وأدرك من الوقت بقدر ما فاته يلزمه قضاء جميع ما أدرك، لأنه قدر على القضاء لزوال العذر، فإن لم يصم حتى أدركه الموت فعليه أن يوصي بالفدية وهي أن يطعم عنه لكل يوم مسكينا لأن القضاء قد وجب عليه ثم عجز عنه بعد وجوبه بتقصير منه فيتحول الوجوب إلى بدله وهو الفدية."

(كتاب الصوم، فصل حكم الصوم المؤقت إذا فات عن وقته، 103/2، ط: سعيد)

فتاوی شامی میں ہے:

"ولو فدى عن صلاته في مرضه لا يصح بخلاف الصوم.....(قوله ولو فدى عن صلاته في مرضه لا يصح) في التتارخانية عن التتمة: سئل الحسن بن علي عن الفدية عن الصلاة في مرض الموت هل تجوز؟ فقال لا. وسئل أبو يوسف عن ‌الشيخ ‌الفاني هل تجب عليه الفدية عن الصلوات كما تجب عليه عن الصوم وهو حي؟ فقال لا. اهـ. وفي القنية: ولا فدية في الصلاة حالة الحياة بخلاف الصوم. اهـ.أقول: ووجه ذلك أن النص إنما ورد في ‌الشيخ ‌الفاني أنه يفطر ويفدي في حياته، حتى إن المريض أو المسافر إذا أفطر يلزمه القضاء إذا أدرك أياما أخر وإلا فلا شيء عليه، فإن أدرك ولم يصم يلزمه الوصية بالفدية عما قدر، هذا ما قالوه، ومقتضاه أن غير ‌الشيخ ‌الفاني ليس له أن يفدي عن صومه في حياته لعدم النص ومثله الصلاة؛ ولعل وجهه أنه مطالب بالقضاء إذا قدر، ولا فدية عليه إلا بتحقيق العجز عنه بالموت فيوصي بها، بخلاف ‌الشيخ ‌الفاني فإنه تحقق عجزه قبل الموت عن أداء الصوم وقضائه فيفدي في حياته، ولا يتحقق عجزه عن الصلاة لأنه يصلي بما قدر ولو موميا برأسه، فإن عجز عن ذلك سقطت عنه إذا كثرت، ولا يلزمه قضاؤها إذا قدر كما سيأتي في باب صلاة المريض، وبما قررنا ظهر أن قول الشارح بخلاف الصوم أي فإن له أن يفدي عنه في حياته خاص بالشيخ الفاني تأمل."

(كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، 74/2، ط: سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولو قدر على الصيام بعد ما فدى بطل حكم الفداء الذي فداه حتى يجب عليه الصوم هكذا في النهاية."

(كتاب الصوم، الباب الخامس في الأعذار التي تبيح الإفطار، 207/1، ط: رشيدية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144508101671

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں