بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 محرم 1446ھ 24 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

گناہ سے توبہ اور مصیبت و پریشانی کا وظیفہ


سوال

 کوئی ایسی دعا بتا دیجیے جس سے اللہ ہمارے گناہوں غلطیوں کوتاہیوں کو توبہ سے معاف کر کے ان کی پردہ پوشی فرما کر دنیا اور آخرت کی سزاؤں سے محفوظ فرما دے، نیز ذلت و رسوائی سے بچنے کے لیے اور کسی آفت و مصیبت کو ٹالنے کے لیے بھی دعا بتا دیجیے ۔

جواب

اگر کوئی گناہ سرزد ہو جائے،تو اس پر تو بہ  و استغفار کرنا چاہیے،اورتوبہ سچے دل سے کرلینی چاہیے، انسان خطا کا پتلا ہے، لیکن بہترین  خطاء کار وہ شخص جو گناہ کرکے اس پر قائم نہ رہے، بلکہ فوراً توبہ کرکے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لے،گناہ پر پشیمانی حیاتِ ایمانی کی علامت ہے، اور توبہ کی اولین شرط یہی ندامت و پشیمانی ہے، بلکہ توبہ کرنے والا شخص اللہ تعالیٰ کا پیارا اور محبوب بن جاتا ہے، تو لہذا گنا ہوں سے بچنا چاہیے،اور پانچوں وقت کے نمازیں ادا کیا  کرے،اور توبہ و استغفار کے کثرت کرے  اور درجہ ذیل دعاؤں کا اہتمام  کریں:

1: "اَللّٰهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا وَاٰمِنْ رَوْعَاتِنَا".

2: "اَللّٰهُمَّ اسْتُرْنَا بِسِتْرِكَ الْجَمِيْلِ الَّذِيْ سَتَرْتَ بِهٖ نَفْسَكَ فَلَا عَيْنَ تَرَاكَ، وَ يَدَ تَمَسُّكَ، وَ لَاتُفْضِحْنَا بَيْنَ خَلْقِكَ وَ لَاتُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ اَللّٰهُمَّ أَعْلِ بِفَضْلِكَ كَلِمَةَ الْحَقِّ وَ الدِّيْنِ."

3:    "اللَّهُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْآخِرَةِ".

4: "اللَّهمَّ إنِّي أسأَلُكَ العافيةَ في الدُّنيا والآخرةِ اللَّهمَّ إنِّي أسأَلُكَ العفوَ والعافيةَ في دِيني ودُنياي وأهلي ومالي اللَّهمَّ استُرْ عَوْراتي وآمِنْ رَوْعاتي اللَّهمَّ احفَظْني مِن بَيْنِ يدَيَّ ومِن خَلْفي وعن يميني وعن شِمالي ومِن فَوقي وأعوذُ بعظَمتِكَ أنْ أُغتالَ مِن تحتي".

اس کے ساتھ ساتھ"لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" روزانہ500 مرتبہ پڑھ کر تمام پریشانیوں سے نجات کی دعا کرتے رہیں۔

قرآنِ کریم میں  ہے:

’’قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ.‘‘[الزمر:53]

ترجمہ: ’’آپ کہہ دیجیے کہ اے میرے بندو! جنہوں نے (کفر و شرک کرکے) اپنے اوپر زیادتیاں کی ہیں کہ تم اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو، بالیقین اللہ تعالیٰ تمام (گزشتہ) گناہوں کو معاف فرمائے گا، واقع وہ بڑا بخشنے والا، بڑی رحمت کرنے والا ہے۔‘‘ (بیان القرآن)

’’اِنَّ اللَّهَ یُحِبُّ التَّوَّابِینَ وَ یُحِبُّ المُتَطَهِّرِینَ‘‘ [البقرة:222]

ترجمہ: ’’یقینًا اللہ تعالیٰ محبت رکھتے ہیں توبہ کرنے والوں سے اور محبت رکھتے ہیں پاک صاف رہنے والوں سے۔‘‘ (بیان القرآن)

سنن ابن ماجہ میں ہے:

"عن أبي عبيدة بن عبد الله، عن أبيه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌التائب ‌من ‌الذنب، كمن لا ذنب له»."

(كتاب الزهد، باب ذكر التوبة، ج:2، ص:1419، ط: دار إحياء الكتب العربية)

ترجمہ:"’گناہ سے (صدقِ دل سے) توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح (پاک و صاف ہوجاتا) ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو۔"(سنن ابن ماجہ)

وفیہ ایضاً:

"عن أنس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌كل ‌بني ‌آدم خطاء، وخير الخطائين التوابون»."

(كتاب الزهد، باب ذكر التوبة، ج:2، ص:1420، ط: دار إحياء الكتب العربية)

تر جمہ:"ہر بنی آدم (انسان) بہت زیادہ خطا کار ہے، اور (لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک) بہترین خطاکار وہ ہیں جو کثرت سے توبہ کرنے والے ہوں۔"

مسند أحمد بن حنبل میں ہے:

"عَنْ بُسْرِ بْنِ أَرْطَاةَ الْقُرَشِيِّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو اللَّهُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْآخِرَةِ."

(ذكر بسربن ارطاة، ج:29، ص:171، ط:مؤسسة الرسالة)

سنن ابن ماجہ میں ہے:

"حدثنا جبير بن أبي سليمان بن جبير بن مطعم قال: سمعت ابن عمر يقول: لم يكن رسول الله صلى الله عليه وسلم يدع هؤلاء الدعوات حين يمسي، وحين يصبح: «اللهم ‌إني ‌أسألك ‌العفو ‌والعافية في الدنيا والآخرة، اللهم أسألك العفو والعافية في ديني ودنياي وأهلي ومالي، اللهم استر عوراتي، وآمن روعاتي، واحفظني من بين يدي، ومن خلفي، وعن يميني، وعن شمالي، ومن فوقي، وأعوذ بك أن أغتال من تحتي»."

(كتاب الدعاء، باب ما يدعو به الرجل إذا أصبح وإذا أمسى، ج:2، ص:273، ط: دار إحياء الكتب العربية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144411101944

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں