بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

گناہ سے بچنے کے لیے وظیفہ


سوال

میں جب بھی  گناہ سے بچ کر اچھائی کی طرف آتا ہوں تو مجھے بہت سکون ملتا ہے،  پھر اچانک سے شیطان کوئی ایسی چال چلاتا  ہے کہ  پتا ہی نہیں چلتا اور میں بھٹک جاتا ہوں،  مہربانی کر کے شیطان سے بچنے کا کوئی وظیفہ یا طریقہ بتائیں ۔

جواب

واضح رہے کہ گناہ سے بچنے کے لیے مضبوط ہمت اور پختہ ارادہ چاہیے، اور اس کے ساتھ ساتھ کسی اللہ والے کی صحبت اختیار کیجیے، نیز  کثرت  کے ساتھ   سید الاستغفار پڑھتے رہیں۔ سید الاستغفار یہ ہے:

"اللَّهُمَّ أنْتَ ربِّى لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خلَقْتَنِى وَأنَا عَبْدُكَ، وَأنَا عَلَى عَهْدِك وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، ‌أَعُوذُ ‌بِكَ ‌مِنْ ‌شَرِّ ‌مَا ‌صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي، فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ،"

ترجمہ: ’’اے اللہ تو ہی میرا رب ہے ، تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں،تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں جس قدرطاقت رکھتا ہوں،میں نے جو کچھ کیا اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں،اپنے آپ پر تیری نعمت کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں،پس مجھے بخش دے کیوں کہ تیرے علاوہ کوئی گناہوں کو نہیں بخش سکتا،"

اور اس دعا کا اہتمام بھی کرلیاکریں:

"اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ ‌مِنْ ‌مُنْكَرَاتِ ‌الْأَخْلَاقِ» وَالْأَعْمَالِ وَالْأَهْوَاءِ."

"ترجمہ:اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں برے اخلاق سے برے اعمال سے اور بری خواہشات سے،"

صحیح البخاری میں ہے:

"عن ‌بشير بن كعب العدوي قال: حدثني ‌شداد بن أوس رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم «سيد الاستغفار أن تقول: ‌اللهم ‌أنت ‌ربي، لا إله إلا أنت، خلقتني وأنا عبدك، وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت، أعوذ بك من شر ما صنعت، أبوء لك بنعمتك علي، وأبوء لك بذنبي، فاغفر لي، فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت. قال: ومن قالها من النهار موقنا بها فمات من يومه قبل أن يمسي فهو من أهل الجنة، ومن قالها من الليل وهو موقن بها فمات قبل أن يصبح فهو من أهل الجنة.»."

(‌‌كتاب الدعوات، ‌‌باب أفضل الاستغفار، ج:8، ص:64، ط:دار طوق النجاة)

ترمذی شریف میں ہے:

"حدثنا ‌سفيان بن وكيع، قال: حدثنا ‌أحمد بن بشير ، ‌وأبو أسامة ، عن ‌مسعر ، عن ‌زياد بن علاقة ، عن ‌عمه قال: «كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول: اللهم إني أعوذ بك ‌من ‌منكرات ‌الأخلاق» والأعمال والأهواء."

(‌‌أبواب الدعوات  عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب دعاء أم سلمة، ج:5، ص:544، ط:دار الغرب الإسلامي)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144504102241

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں