بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

ماں کی گود میں تین بچوں کے بات کرنے کی تحقیق


سوال

درج ذیل واقعہ کی تحقیق مطلوب ہے اور اس کی اسناد ی حیثیت کیا ہے؟ یہ واقعہ کس کتاب میں موجود ہے؟: 

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: گود  میں کسی بچے نے بات نہیں کی سوائے تین بچوں کے۔ ایک عیسیٰ علیہ السلام۔ دوسرا جُرَیج والا بچہ۔ یہ جریج نامی شخص بڑا عبادت گزار تھا۔ اس نے ایک عبادت خانہ بنایا اور اسی میں رہتا تھا۔ وہ نماز پڑھ رہا تھا کہ اس کی ماں آئی اور اسے بلایا کہ اے جریج! تو وہ (دل میں ) کہنے لگا کہ یا اللہ! ایک طرف میری ماں ہے تو دوسری طرف میری نماز ( میں نماز پڑھے جاؤں یا اپنی ماں کو جواب دوں)؟ آخر وہ نماز ہی میں مصروف رہا۔ اس کی ماں واپس چلی گئی۔ پھر جب دوسرا دن ہوا تو وہ پھر آئی اور پکارا کہ اے جریج ! وہ کہنے لگا کہ اے اللہ! میری ماں پکار رہی ہے اور میں نماز میں ہوں۔ (اب میں کیا کروں!)۔ آخر وہ نماز میں ہی لگا رہا۔ پھر اس کی ماں اگلے دن پھر آئی تو وہ نماز پڑھ رہا تھا۔ اس نے پکار لگائی کہ اے جریج! وہ کہنے لگا کہ اے رب! ایک طرف میری ماں ہے اور ایک طرف نماز۔ بہرحال وہ اپنی نماز ہی میں مشغول رہا۔ اس کی ماں نے کہا کہ یااللہ! اس کو اس وقت تک وفات نہ دینا جب تک یہ فاحشہ عورتوں کا منہ نہ دیکھ لے (یعنی ان سے اس کا سابقہ نہ پڑے)۔ پھر بنی اسرائیل میں جریج کا اور اس کی عبادت کا چرچا ہونے لگا اور بنی اسرائیل میں ایک بدکار عورت تھی جس کی خوبصورتی ضرب المثل تھی۔ وہ بولی اگر تم کہو تو میں جریج کو ابتلاء یا فتنہ میں ڈالوں۔ پھر وہ عورت جریج کے سامنے گئی لیکن جریج نے اس کی طرف کچھ توجہ نہ کی۔ آخر وہ ایک چرواہے کے پاس گئی جو اس کے عبادت خانے میں آیا کرتا تھا اور اس سے زنا کرایا جس سے وہ حاملہ ہو گئی۔ جب اس نے بچہ جنا تو کہنے لگی کہ یہ بچہ جریج کا ہے۔ لوگ یہ سن کر اس کے پاس آئے، اسے نیچے اتارا اور اس کے عبادت خانہ کو گرا دیا اور اس کو مارنے لگے۔ وہ بولا کہ تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے کہا کہ تو نے اس بدکار عورت سے زنا کیا ہے اور اس نے تجھ سے ایک بچے کوجنم دیا ہے۔ جریج نے کہا کہ وہ بچہ کہاں ہے؟ لوگ اس کو لائے تو جریج نے کہا کہ ذرا مجھے چھوڑو میں نماز پڑھ لوں۔ پھر نماز پڑھی اور اس بچہ کے پاس آکر اس کے پیٹ میں ایک کچوکا لگایا اور بولا کہ اے بچے ! تیرا باپ کون ہے؟ وہ بولا کہ فلاں چرواہا ہے۔ یہ سن کر لوگ جریج کی طرف دوڑے اور اس کو بوسہ دینے اور اسے چھونے لگے اور کہنے لگے کہ ہم تیرا عبادت خانہ سونے اور چاندی سے بنائے دیتے ہیں۔ وہ بولا کہ نہیں جیسا تھا ویسا ہی مٹی سے پھر بنا دو۔ تو لوگوں نے بنا دیا۔ (تیسرا ) بنی اسرائیل میں ایک بچہ تھا جو اپنی ماں کا دودھ پی رہا تھا کہ اتنے میں ایک بہت عمدہ جانور پر ایک خوش وضع، خوبصورت سوار گزرا۔ تو اس کی ماں اس کو دیکھ کر کہنے لگی کہ یا اللہ! میرے بیٹے کو اس سوار جیسا بنا دے ۔ یہ سنتے ہی اس بچے نے ماں کی چھاتی چھوڑ دی اور سوار کی طرف منہ کر کے اسے دیکھا اور کہنے لگا کہ یا اللہ !مجھے اس کی طرح نہ کرنا۔ اتنی بات کر کے پھر وہ بچہ پستان کی طرف متوجہ ہوا اور دودھ پینے لگا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ گویا میں (اس وقت) نبی ﷺ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ ﷺ نے اپنی شہادت کی انگلی کو چوس کر دکھایا کہ وہ لڑکا اس طرح چھاتی چوسنے لگا۔ پھر ایک لونڈی ادھر سے گزری جسے لوگ مارتے جاتے تھے اور کہتے تھے کہ تو نے زنا کیا اور چوری کی ہے۔ وہ کہتی تھی کہ مجھے اللہ تعالیٰ ہی کافی ہے اور وہی میرا وکیل ہے۔ تو اس کی ماں نے کہا کہ یااللہ! میرے بیٹے کو اس کی طرح نہ کرنا۔ یہ سن کر بچے نے پھر دودھ پینا چھوڑ دیا اور اس عورت کی طرف دیکھ کر کہا کہ یا اللہ! مجھے اسی لونڈی کی طرح کرنا۔ اس وقت ماں اور بیٹے میں گفتگو ہوئی تو ماں نے کہا: جب ایک اچھی صورت کا آدمی گزرا تو میں نے کہا کہ یا اللہ! میرے بیٹے کو ایسا کرنا تو تو نے کہا کہ یا اللہ! مجھے ایسا نہ کرنا اور یہ لونڈی جسے لوگ مارتے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تو نے زنا کیا اور چوری کی ہے تو میں نے کہا کہ یا اللہ! میرے بیٹے کو اس کی طرح نہ بنانا اُس پر توکہتا ہے کہ یا اللہ !مجھے اس کی طرح کرنا (یہ کیا بات ہے)؟ بچہ بولا، وہ سوار ایک ظالم شخص تھا، میں نے دعا کی کہ یا اللہ ! مجھے اس کی طرح نہ کرنا اور اس لونڈی پر لوگ تہمت لگا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ تو نے زنا کیا اور چوری کی ہے حالانکہ اس نے نہ زنا کیا ہے اور نہ چوری کی ہے تو میں نے کہا کہ یا اللہ ! مجھے اس جیسا بنا دے۔

جواب

مذکورہ روایت ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے "صحیح بخاری" ، "صحیح مسلم" اور دیگر کتب حدیث میں موجود ہے۔ اس کے الفاظ درج ذیل ہیں: 

"عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِى الْمَهْدِ إِلاَّ ثَلاَثَةٌ عِيسَى وَكَانَ فِى بَنِى إِسْرَائِيلَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ جُرَيْجٌ كَانَ يُصَلِّى فَجَاءَتْهُ أُمُّهُ فَدَعَتْهُ فَقَالَ: أُجِيبُهَا أَوْ أُصَلِّى فَقَالَتِ اللَّهُمَّ لاَ تُمِتْهُ حَتَّى تُرِيَهُ وُجُوهَ الْمُومِسَاتِ وَكَانَ جُرَيْجٌ فِى صَوْمَعَتِهِ فَتَعَرَّضَتْ لَهُ امْرَأَةٌ وَكَلَّمَتْهُ فَأَبَى فَأَتَتْ رَاعِيًا فَأَمْكَنَتْهُ مِنْ نَفْسِهَا فَوَلَدَتْ غُلاَمًا فَقَالَتْ مِنْ جُرَيْجٍ فَأَتَوْهُ فَكَسَرُوا صَوْمَعَتَهُ وَأَنْزَلُوهُ وَسَبُّوهُ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى ثُمَّ أَتَى الْغُلاَمَ فَقَالَ مَنْ أَبُوكَ يَا غُلاَمُ قَالَ الرَّاعِى قَالُوا نَبْنِى صَوْمَعَتَكَ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ لاَ إِلاَّ مِنْ طِينٍ وَكَانَتِ امْرَأَةٌ تُرْضِعُ ابْنًا لَهَا مِنْ بَنِى إِسْرَائِيلَ فَمَرَّ بِهَا رَجُلٌ رَاكِبٌ ذُو شَارَةٍ فَقَالَتِ اللَّهُمَّ اجْعَلِ ابْنِى مِثْلَهُ فَتَرَكَ ثَدْيَهَا وَأَقْبَلَ عَلَى الرَّاكِبِ فَقَالَ اللَّهُمَّ لاَ تَجْعَلْنِى مِثْلَهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى ثَدْيِهَا يَمَصُّهُ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ كَأَنِّى أَنْظُرُ إِلَى النَّبِىِّ صلى الله عليه وسلم يَمَصُّ إِصْبَعَهُ ثُمَّ مُرَّ بِأَمَةٍ فَقَالَتِ اللَّهُمَّ لاَ تَجْعَلِ ابْنِى مِثْلَ هَذِهِ فَتَرَكَ ثَدْيَهَا فَقَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِى مِثْلَهَا فَقَالَتْ لِمَ ذَاكَ فَقَالَ الرَّاكِبُ جَبَّارٌ مِنَ الْجَبَابِرَةِ وَهَذِهِ الأَمَةُ يَقُولُونَ سَرَقْتِ زَنَيْتِ وَلَمْ تَفْعَلْ."

(صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري، الطبعة السلطانية، كتاب أحاديث الأنبياء، باب قول الله: واذكر في الكتاب مريم، رقم الحديث: ٣٤٣٦، ٤/١٦٥)

اس حدیث کی سند  صحیح ہے، اور اسے بیان کیا جاسکتا ہے۔ فقظ واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144504100082

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں