بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جمادى الاخرى 1443ھ 18 جنوری 2022 ء

دارالافتاء

 

گوہر شاہی کے متبعین سے تعلق رکھنے اور نکاح کا حکم


سوال

ہمارے ایک قریبی رشتہ دار ہیں، جو گوہر شاہی گروپ سے منسلک ہیں، یہ تنظیم اب یونس الگوہر چلاتے ہیں، ان کی ملک سے باہر مجلسیں ہوتی ہیں، ہمارے یہ قریبی رشتہ دار ان مجلسوں میں بھی جایا کرتے ہیں، اور روزانہ آن لائن مجلسِ ذکر بھی ہوتی ہے، جن میں یہ بھی شریک ہوتے ہیں، میں نے اپنے رشتہ دار کو عید کی نماز پڑھتے دیکھا ہے، زکوۃ بھی ادا کرتے ہیں، ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے؟ ان کی ازدواجی زندگی کی کیا حیثیت ہے؟ ان کا نکاح برقرار ہے یا نہیں؟  اور ہمیں ان سے کس طرح تعلق رکھنا چاہیے؟

جواب

گوہر شاہی اور اُس  کے متبعین اپنے باطل عقائد کی بناپر دائرہ اسلام سے خارج ہیں،  اِس جماعت کے باطل عقائداِن کی  اپنی کتب"روحانی سفر ،روشناس اور مینارہ نور" میں  موجود  ہیں،جن کو مولانا سعید احمد جلال پوری رحمۃ اللہ علیہ  نے اپنی کتاب  "دورِ جدید کا مسیلمہ کذاب، گوہر شاہی" میں  بیان فرمایا ہے، وہ باطل عقائد   اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی، قرآن میں تحریف، کلمہ طیبہ میں تبدیلی اور  حضرت آدم  و حضرت موسیٰ و دیگر انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات کی گستاخی وغیرہ پر مشتمل ہیں۔

لہذا یہ فرقہ اہل سنت والجماعت کے نزدیک ضال، مضل اور دجال ہے، دائرہ اسلام سے خارج ہے،  اور کافر و زندیق ہے،  ان سے میل جول اور رشتہ ناتہ وغیرہ کرنا حرام ہے، ان کا ذبیحہ بھی حرام ہے، ان سے سنی لڑکی کا نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا، اگر کسی خاتون کا اس فرقہ کے کسی فرد سے نکاح کروایا گیا ہو تو   لڑکی فوری طور پر ایسے آدمی  سے علیحدگی اختیارکرے، شرعاً طلاق کی بھی ضرورت نہیں ہے ؛ کیوں کہ نکاح ہی منعقد نہیں ہوا، تاہم قانونی طور پر تحفظ کے لیے لڑکے سے فوری طلاق حاصل کی جائےورنہ بذریعہ عدالت اسے طلاق دینے پر مجبور کیا جائے۔

اگر سائل کے مذکورہ رشتہ دار نماز  پڑھتے ہیں،  زکوۃ  ادا کرتے ہیں،  لیکن مذکورہ بالا عقائد کے حامل ہیں تو ان کا وہی حکم ہو گا جو درج بالا سطور میں ذکر ہوا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: وحرم نكاح الوثنية) .......  وفي الفتح: ويدخل في عبدة الأوثان عبدة الشمس والنجوم والصور التي استحسنوها والمعطلة والزنادقة والباطنية والإباحية. وفي شرح الوجيز وكل مذهب يكفر به معتقده. اهـ.

قلت: وشمل ذلك الدروز والنصيرية والتيامنة، فلا تحل مناكحتهم، ولا تؤكل ذبيحتهم"۔

(کتاب النکاح، 3/45/ سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144305100338

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں