بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شعبان 1445ھ 27 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

گوبر اور مرغی کی بیٹ بیچنا


سوال

 گوبر، مرغی کی بیٹ بیچنا جائز ہے؟

جواب

گوبر   خالص بیچنا بھی جائز ہے، اور مٹی وغیرہ کے ساتھ ملا ہوا ہو یا کھاد کی صورت میں ہو تب بھی اس کی خرید و فروخت  جائز ہے اور اُس سے حاصل شدہ آمدنی کو استعمال کرنا بھی جائز ہے۔(تجارت کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا،5/418، ط: بیت العمار)۔ اور مرغی کی بیٹ (جو پولٹری فارم والے زمینداروں کو کھاد کے طور پر فروخت کرتے ہیں، اس) کے ساتھ بھی چونکہ مٹی وغیرہ ملی ہوتی ہے، لہٰذا اس کا بیچنا بھی جائز ہے۔(تجارت کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا،6/151، ط: بیت العمار)

الفقہ الاسلامی و أدلتہ میں ہے:

"ويكره بيع العَذِرة، ولا بأس ببيع السرقين أو السرجين: وهو (الزبل) وبيع البعر، لأنه منتفع به، لأنه يلقى في الأرض لاستكثار الريع، فكان مالاً، والمال محل للبيع بخلاف العذرة، لأنه لا ينتفع بها إلا مخلوطة، ويجوز بيع المخلوط كالزيت الذي خالطته النجاسة."

(القسم الثالث، الفصل الأول، المبحث الرابع، المطلب الأول: أنواع البيع الباطل، بيع النجس والمتنجس، 5/ 3431، الناشر: دار الفكر- دمشق)

المحیط البرہانی میں ہے:

"ويجوز بيع ‌السرقين والبعر والانتفاع بها، وأما العذرة فلا يجوز الانتفاع بها ما لم يخلط بالتراب ويكون التراب غالبا، وهذا لأن محلية البيع بالمالية، والمالية بالانتفاع، والناس اعتادوا الانتفاع بالبعر والسرقين من حيث الإلقاء في الأرض لكثرة الريع، أما ما اعتادوا الانتفاع بالعذرة ما لم يكن مخلوطاً بالتراب، ويكون التراب هو الغالب"

(كتاب البيع،  ‌‌الفصل السادس: فيما يجوز وما لا يجوز بيعه، 6/ 350، الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144309101315

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں