بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

گوگل ایڈسنس کے ذریعے کمانے کا حکم


سوال

ویب سائٹ پہ گوگل ایڈسینس لگوانا جائز ہے؟ ویب سائٹ پہ ایڈ کی  صرف تصویر لگتی ہے تو بلاگ ویب سائٹ پہ گوگل ایڈسینس کی کمائی حلال ہے ؟

جواب

گوگل کی طرف سے لگائے جانے والے  اشتہار ات میں جاندار کی تصاویر، میوزک  سمیت بے شمار خرابیاں پائی جاتی ہیں، نیز ویب سائٹ بناتے وقت گوگل انتظامیہ کو جب ایڈ چلانے کی اجازت دی جائے تو اس کے بعد وہ  مختلف ڈیوائسز کی سرچنگ بیس یا لوکیشن یا ملکوں کے حساب سے مختلف ایڈ چلاتے ہیں، مثلاً اگر  پاکستان میں اسی ویڈیو پر وہ کوئی اشتہار چلاتے ہیں، مغربی ممالک میں اس پر وہ کسی اور قسم کا اشتہار چلاتے ہیں،  اور پاکستان میں ہی ایک شخص کی ڈیوائس پر الگ اشتہار  چلتاہے تو دوسرے شخص کی ڈیوائس پر دوسری نوعیت کا اشتہار چل سکتاہے، جس   میں اکثر  حرام اور  ناجائز چیزوں کی تشہیر پر مشتمل اشتہارات ہوتے ہیں ، ان مفاسد کے پیشِ نظر ویب سائٹ پر اشتہار نشر کرکے پیسے کمانے کی شرعًا اجازت نہیں ہے۔

فتاوى هندية میں ہے:

"و منها أن يكون مقدور الاستيفاء - حقيقة أو شرعًا فلايجوز استئجار الآبق و لا الاستئجار على المعاصي؛ لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا.... ومنها أن تكون المنفعة مقصودة معتادًا استيفاؤها بعقد الإجارة و لايجري بها التعامل بين الناس فلايجوز استئجار الأشجار لتجفيف الثياب عليها. .... ومنها أن تكون الأجرة معلومةً."

(کتاب الاجارۃ ج :4ص:411،دار الفکر)

فتاوی شامي ميں ہے:

"(لا تصح الإجارة لعسب ‌التيس) وهو نزوه على الإناث (و) لا (لأجل المعاصي مثل الغناء والنوح والملاهي)".

(کتاب الجارۃ ، باب الاجارۃ الفاسدۃ، ج:6،  ص:55،  ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علی صاحبه".

(کتاب الحظر الاباحۃ، باب البیع، ج:6، ص:385، ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"قال ابن مسعود: صوت اللهو و الغناء ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء النبات. قلت: و في البزازية: إستماع صوت الملاهي كضرب قصب و نحوه حرام ؛لقوله عليه الصلاة و السلام: استماع الملاهي معصية، و الجلوس عليها فسق، و التلذذ بها كفر؛ أي بالنعمة".

(ج:6،ص:348، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144403101751

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں