بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

گفٹ میں ملنے والا پرائز بانڈ کرنسی میں تبدیل کرکے استعمال کرنا


سوال

میرے رشتے دار نے تقریباً تیس سال سعودی عرب میں نوکری کی، واپسی پر اپنی جمع پونچی سے پرائز بانڈ خرید ے اور  اس سے اپنا گزر اوقات کرتے رہے انعام کی رقم پر،  ان کی کوئی اولاد نہیں تھی مجھ سے وہ اپنے کام کرواتے تھے، اپنی زندگی میں اپنا مكان میرے نام کردیا اور باقی تمام سامان اور پرائز بانڈ بھی، ان کی بیوی کا انتقال پہلے هي هوچكا تھا،  کیا میں پرائز بانڈ کرنسی میں تبدیل کرا کر استعمال کر سکتا ہوں؟

جواب

پرائز بانڈ کی خرید وفروخت،  اس کا استعمال اور اس پر ملنے والا منافع   سود اور جوئے پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے، اس سے جلد از جلد چھٹکارا حاصل کرنا ضروری ہے، تاہم پرائز بانڈ میں جمع کرائی گئی  اصل رقم واپس وصول کرنا جائز ہے۔

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ مرحوم شخص نے اپنی زندگی میں آپ کو پرائز بانڈ مالک  بناکر دے دیے تھے، اور ان پر آپ کا قبضہ بھی ہوگیا تھا تو اب اس میں جمع کرائی  اصل رقم وصول کرسکتے ہیں، اور اس پر ملنے والی اضافی رقم وصول کرنا جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144204200883

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں