بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ربیع الاول 1443ھ 26 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

گھٹنے میں زخم ہونے کی صورت میں غسل کے لیے تیمم کرنا


سوال

اگر گھٹنے میں زخم ہو اور پانی لگنے سے زخم بڑھنے کا خدشہ ہو تو احتلام کی صورت میں تیمم کرنا جائز ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر گھٹنے میں زخم ہو اور پانی لگنے کی صورت میں زخم بڑھنے کا اندیشہ ہو تو غسل کے دوران پاؤں کے اس حصے کو چھوڑ کر باقی جسم کو پانی سے دھولے، اور اس جگہ کوئی چیز باندھ دے  یا کوئی ایسی تدبیر کرلے جس سے پانی نہ پہنچے، اور زخم والے حصے پر گیلے ہاتھ سے صرف مسح کرلے، اور اگر مسح بھی نقصان پہنچاتا ہو  تو مسح کو بھی چھوڑ دے، غسل ہوجائے گا۔

اور جب تک اس طرح جسم پر پانی ڈال کر غسل کرسکتا ہے کہ زخم سے متاثرہ جگہ کو محفوظ رکھ سکتا ہے تو اس کے لیے تیمم کرنا جائز نہیں ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 102):
" [فروع]
في أعضائه شقاق غسله إن قدر وإلا مسحه وإلا تركه ولو بيده، ولا يقدر على الماء تيمم، ولو قطع من المرفق غسل محل القطع.

(قوله: شقاق) هو بالضم. وفي التهذيب قال الليث: هو تشقق الجلد من برد أو غيره في اليدين والوجه: وقال الأصمعي: الشقاق في اليد والرجل من بدن الإنسان والحيوان، وأما الشقوق فهي صدوع في الجبال والأرض. وفي التكملة عن يعقوب: يقال بيد فلان شقوق ولا يقال شقاق؛ لأن الشقاق في الدواب: وهي صدوع في حوافرها وأرساغها مغرب.
(قوله: وإلا تركه) أي وإن لم يمسحه بأن لم يقدر على المسح تركه.
(قوله: ولا يقدر على الماء) أي على استعماله لمانع في اليد الأخرى، ولا يقدر على وضع وجهه ورأسه في الماء".

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (1/ 147):
"(قوله: أو لمرض) يعني يجوز التيمم للمرض وأطلقه، وهو مقيد بما ذكره في الكافي من قوله بأن يخاف اشتداد مرضه لو استعمل الماء فعلم أن اليسير منه لا يبيح التيمم، وهو قول جمهور العلماء إلا ما حكاه النووي عن بعض المالكية، وهو مردود بأنه رخصة أبيحت للضرورة ودفع الحرج، وهو إنما يتحقق عند خوف الاشتداد والامتداد ولا فرق عندنا بين أن يشتد بالتحرك كالمبطون أو بالاستعمال كالجدري أو كأن لا يجد من يوضئه ولا يقدر بنفسه اتفاقا۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144206200871

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں