بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 محرم 1446ھ 25 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

غسل سے متعلق ایک مسئلہ کا حکم


سوال

 اگر بیوی کے ساتھ ہم بستری کرتے وقت منی نکل جائے اور شلوار پہنی ہو اور منی شلوار میں لگ جائے، تو اس صورت میں کیا بیوی پہ غسل فرض ہوگا؟ اگر چہ عضوتناسل شرمگاہ پہ نہ لگا ہو،اور اگر عضوتناسل شرمگاہ پہ لگا ہو، تو اس صورت میں غسل فر ض ہوگا یا نہیں؟

جواب

 اگر دخول نہ ہوا ہو، تو صرف مرد کی منی نکلنے سےیا شلوار پر  لگنے سے بيوی پر غسل واجب نہیں ہوگا،البتہ  شلوار کے جس حصہ پر مرد کی منی لگی ہواس حصے کا دھونا ضروری ہےاوراگردخول ہواہوتو اس صورت میں دونوں میاں بیوی پر غسل فرض ہوجائےگا۔

في الفتاوى الهندية:

"( السبب الثاني الإيلاج ) الإيلاج في أحد السبيلين إذا توارت الحشفة يوجب الغسل على الفاعل والمفعول به أنزل أو لم ينزل وهذا هو المذهب لعلمائنا، كذا في المحيط. وهو الصحيح،كذا في فتاوى قاضي خان. ولو كان مقطوع الحشفة يجب الغسل بإيلاج مقدارها من الذكر،كذا في السراج الوهاج".

 (کتاب الطهارۃ،الباب الثاني في الغسل،ج:1،ص:15،ط:دارالفکر)

في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:

" أن الصحابة - رضي الله عنهم - لما اختلفوا في وجوب الغسل بالتقاء الختانين بعد النبي - صلى الله عليه وسلم - وكان المهاجرون يوجبون الغسل، والأنصار لا، بعثوا أبا موسى الأشعري إلى عائشة - رضي الله عنها - فقالت سمعت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول: «إذا التقى الختانان، وغابت الحشفة وجب الغسل أنزل، أو لم ينزل» فعلت أنا ورسول الله - صلى الله عليه وسلم - واغتسلنا فقد روت قولا، وفعلا ."

(كتاب الطهارة،فصل الغسل،ج:1،ص:36،ط:دار الكتب العلمية)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144407101963

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں