بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

غروبِ آفتاب کے بعد افطار میں تاخیر کرنا


سوال

آج کل ’’مسلم پرو‘‘  جیسی ایپ میں نماز کا وقت داخل ہونے پر  اذان  ہوجاتی ہے اور پھر بھی روزہ کھولنے میں لوگ 5 منٹ انتظار کرنے کو کہتے ہیں تو  کیا یہ درست ہے؟

جواب

جب سورج غروب ہونا یقینی معلوم ہوجائے، تو بلا تاخیر افطار کرلینا چاہیے، اور یہی سنت ہے، اور خیر و برکت کا باعث ہے، محض شبہ اور وہم کی بنا پر افطار میں تاخیر کرنا درست نہیں،  غروبِ آفتاب کے بعد افطار میں جلدی کرنے کو غلط  سمجھنا صحیح نہیں، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ  جب رات آجائے اور دن چلا جائے، اور سورج غروب ہوجائے تو افطار کرلو۔

لہذا صورتِ  مسئولہ میں غروبِ آفتاب کا یقین ہوجانے کے بعد مزید پانچ منٹ تاخیر  کرنا درست نہیں ہے۔

 

البتہ سورج غروب ہونے کا یقینی طور پر علم یا تو مشاہدے سے ہوگا، اس صورت میں کلینڈر دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے، تاہم شہروں میں عمارات ہونے کی وجہ سے سورج غروب ہونے کا مشاہدہ مشکل ہوتاہے، لہٰذا سہولت کے لیے اوقاتِ نماز کے نقشے بنادیے گئے ہیں، جو اس فن کے ماہرین نے سال بھر کے مشاہدے کو سامنے رکھ کر ترتیب دیے ہیں،  ان نقشوں / کلینڈرز میں سے جو مستند علماءِ کرام یا مستند دینی اداروں کے تصدیق شدہ کلینڈر ہیں (مثلاً: پروفیسر عبداللطیف صاحب مرحوم کا ترتیب دیا ہوا نقشہ) ان ہی کے مطابق روزہ رکھنے اور کھولنے کا اہتمام کرنا چاہیے، ان کلینڈرز کے اوقات اور حقیقی مشاہدے میں بہت معمولی فرق (مثلاً ایک منٹ) ہوسکتاہے، لہٰذا اگر کوئی کلینڈر کے مطابق غروب کا وقت ہونے کے ایک آدھ منٹ بعد افطار کرتاہے تو یہ تاخیر نہیں کہلائے گی، اور سحری میں ایک آدھ منٹ پہلے رک جاتاہے تو یہ جلدی کرنا نہیں کہلائے گا، بلکہ احتیاط کہلائے گا، البتہ پانچ منٹ کا فرق رکھنا درست نہیں ہوگا۔

باقی سائل نے جس ایپلی کیشن کا ذکر کیا ہے، اس میں اوقاتِ نماز اور معیار (standard) کے بارے میں ہمیں علم نہیں، لہٰذا اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی جاسکتی۔

سنن ترمذی میں ہے:

"698 - حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الهَمْدَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُثَنَّى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دَاوُدَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ، وَأَدْبَرَ النَّهَارُ، وَغَابَتِ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَفْطَرْتَ» وَفِي البَابِ عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، وَأَبِي سَعِيدٍ.: «حَدِيثُ عُمَرَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ»". ( بَابُ مَا جَاءَ إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ، وَأَدْبَرَ النَّهَارُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ، ٣ / ٧٢، ط: مصطفي البابي الحلبي)

سنن الترمذي  میں ہے:

"699 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، قِرَاءَةً عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الفِطْرَ» وَفِي البَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَائِشَةَ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.: " حَدِيثُ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ أَهْلُ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: اسْتَحَبُّوا تَعْجِيلَ الفِطْرِ".

ترجمہ: لوگ برابر بخیر رہیں گے، جب تک افطار میں جلدی کرتے رہیں گے۔

"700 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ أَحَبَّ عِبَادِي إِلَيَّ أَعْجَلُهُمْ فِطْرًا".

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اللہ رب عزت نے  ارشاد فرمایا: میرے نزدیک میرے بندوں میں سب محبوب وہ بندہ ہے، جو افطار میں جلدی کرے۔

"702 - حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ عَلَى عَائِشَةَ، فَقُلْنَا: يَا أُمَّ المُؤْمِنِينَ، رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الإِفْطَارَ، وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ، وَالآخَرُ يُؤَخِّرُ الإِفْطَارَ، وَيُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ، قَالَتْ: [ص: 75] أَيُّهُمَا يُعَجِّلُ الإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ؟ قُلْنَا: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَتْ: «هَكَذَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»، وَالآخَرُ أَبُو مُوسَى: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ»". ( بَابُ مَا جَاءَ فِي تَعْجِيلِ الإِفْطَارِ، ٣ / ٧٣ - ٧٤، ط: مصطفي البابي الحلبي)

ترجمہ: حضرت ابو  عطیہ نے فرمایا کہ میں اور مسروق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں آئے، پھر ہم نے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے دو آدمی، ( ایسے ہیں کہ ) ان میں سے ایک جلدی افطار کرتا ہے اور جلدی نماز ادا کرتا ہے، جب کہ دوسرا تاخیر سے افطار کرتا ہے اور تاخیر سے نماز ادا کرتا ہے،  سو انہیں نے دریافت کیا کہ ان دونوں میں سے کون جلدی افطار اور نماز ادا کرنے میں جلدی کرتا ہے؟  ہم نے کہا عبد اللہ دن مسعود رضی اللہ عنہ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کرتے تھے،  اور دوسرے ( تاخیر کرنے والے،) ابو موسی ہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109200208

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے