بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

گونگے اور بہرے کو اشاروں سے قرآن سکھانے کا حکم


سوال

گونگے اور بہرے بچوں/افراد کو اشاروں کے ذریعے قرآن مجید حفظ کروانے کا کیا حکم ہے؟ کیا یہ جائز ہے؟ سعودی عرب میں ایسی درس گاہیں موجود ہیں، جہاں اس قسم کے معذور افراد کو اشاروں کی مدد سے قرآن مجید حفظ کروایا جاتا ہے/ ناظرہ پڑھوایا جاتا ہے، اسی طرح مکمل قرآنی تعلیم اشاروں کی مدد سے دی جاتی ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں گونگے یا سماعت سے محروم افراد کو قرآن مجید اشاروں سے سکھانا درست اور جائز ہے۔

بذل المجهود في حل سنن أبي داود میں ہے:

"عن عطاء بن يسار، عن معاوية بن الحكم السلمي قال: قلت: يا رسول الله! جارية لي صككتها صكة) أي لطمتها لطمة (فعظم ذلك علي رسول الله - صلى الله عليه وسلم -) أي عد تلك اللطمة أمرا عظيما علي.(فقلت: أفلا أعتقها؟ قال: ائتني بها، قال: فجئت بها، قال) رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: (أين الله؟ قالت: في السماء، قال) رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: (فمن أنا؟ قالت: أنت رسول الله - صلى الله عليه وسلم -، قال) رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: (أعتقها فإنها مؤمنة)، وأما قولها "في السماء" في جواب سؤاله عليه السلام: أين الله؟ فليس المراد به المحل والمكان، بل المراد به العلو والرفعة في المرتبة".

(کتاب الأیمان والنذور، باب فی الرقبۃ المؤمنۃ، ج:10، ص:575، ط:مرکز النخب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509100663

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں